انوارالعلوم (جلد 5) — Page 362
انوار العلوم جلد ۵ ۳۶۲ اسلام پر پروفیسر رام دیو کے اعتراضات کا جواب ہندو مذہب ترقی نہیں کر سکا کیونکہ اس کے ماننے والوں کو اس مذہب پر تسلی نہ ہوئی اور اپنے ضمیرکا مقابلہ نہ کر کے انہوں نے خفیہ طور پر اسلام کو قبول کر لیا۔ گو اس بات کا یہاں تعلق نہیں مگر میں ضمنی طور پر اس امر کے بیان کرنے سے نہیں رہ سکتا کہ رہ آئمہ بیل مسٹر گوکل داس صاحب کی یہ شہادت ہندو صاحبان کے اس اعتراض کا بھی قلع قمع کر دیتی ہے کہ اسلام تلوار سے پھیلا ہے ۔ اس سے تو پتہ لگتا ہے کہ کئی خاندان دل سے اسلام سے آئے مگر وہ اپنے عقیدہ کو اپنے رشتہ داروں سے ڈر کر ظاہر نہیں کر سکے بلکہ یہ شہادت تو اس امر کا ثبوت ہے سے ڈر کر کرسکے یہ امر کہ اسلام کے اظہار کرنے میں لوگوں کو دقتیں ہوئی تھیں اور جبراً ان کو اس بات سے روکا جاتا تھا۔ تبھی تو کئی ہندو خاندانوں کو با وجود اسلام کی صداقت کا قائل ہو جانے کے اس کے اظہار کی جرات نہیں ہوئی اپنے ہم قوموں سے ڈر کر خفیہ خفیہ اسلام کی تعلیم پر عمل کرتے ہیں اور ظاہرہ طور پر ہندو بنے اور وہ ا ہوئے ہیں ۔ دیدوں کے متعلق چند اور آراء اب میں پھر اس مضمون کی طرف آتا ہوں۔ پنڈت در ارتا اب اصل صاحب لکھتے ہیں کہ ایک شخص خاص حد تک جوشی ویدوں کے علوم سے زیادہ علوم بھی حاصل کر سکتا ہے ۔ ان پنڈت صاحب کے بیان کے مطابق دید تمام علوم کا مخزن نہیں بلکہ ویدوں سے اوپر اور علوم بھی ہیں جو انسان حاصل کر سکتا ہے ۔ راؤ بہادر دیوراڈ نایک صاحب کے نزدیک وید ہر زمانہ کے لئے کافی نہیں ہیں ہیں کیونکہ کہ لکھتے ہیں کہ یہ سچ ہے کہ اصلی دیرک تعلیمات اب رائج نہیں ہیں اور شاستہ اور لکھنے والے عقلمند لوگ تھے جنہوں نے اس زمانہ کی بدلی ہوئی حالت کے مطابق قواعد بنا دیئے۔ بابو گووندا داس صاحب کا خیال ہے کہ خدا تعالیٰ پر ایمان لانا ضروری نہیں کیونکہ یوگا کے سوا ہے لانا باقی پانچوں آسٹک خیالات کے سلسلہ خدا تعالیٰ کا ذکر تک نہیں کرتے ۔ وہ پروفیسر صاحب کونسی راہ اختیار کرینگے ان حوالہ جات کے بعد ی نہیں سمجھ سکا کہ پروفیسر صاحب ان دو راہوں کے سوا کسی تمیری راہ کو اختیار کر سکتے ہوں کہ یا تو وہ یہ اقرار کریں کہ جس دلیل کے ساتھ انہوں نے اسلام کے اثر کو ناقس ثابت کرنا چاہا تھا وہ دلیل در حقیقت دلیل نہیں ہے بلکہ ایک بات تھی جو لیکچر کو مزیدار بنانے کے لئے پیش کر دی گئی تھی اور صرف حاضرین کو خوش کرنا اس سے مقصود تھا اور یا یہ تسلیم کریں کہ وہ دلیل تو درست ہے گو اسلام کے خلاف وہ اس زور کے ساتھ پیش نہیں کی جاسکتی جس قدر کہ آریہ مذہب کے خلاف