انوارالعلوم (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 18 of 653

انوارالعلوم (جلد 5) — Page 18

انوار العلوم جلد ۵ ۱۸ قیام توحید کیلئے غیرت فتح کے لئے سامانوں کی ضرورت ہوتی ہے اور ان سامانوں میں سے سب سے بڑا سامان ایک مسجد کا ہوتا ہے ۔ خدا نے اس وقت ہمارے لئے بہت آسانی پیدا کردی ہے۔ یعنی صرافی کے تغیرات کے ما تحت اگر ہم دس روپیہ بیاں دیں تو وہاں پندرہ روپیہ کا پونڈ نہیں مل جاتا ہے اور خدا تعالیٰ نے میرے دل میں بڑے زور سے تحریک کی ہے کہ اس کام کو شروع کیا جاوے ۔ اور یہ تحریک عجیب طرح ہوئی ہے۔ کل جب میں ظہر کی نماز پڑھنے کے لئے آیا تو مجھے خیال ہوا کہ پانچ سات ہزار روپیہ جمع کر کے ولایت بھیجدیا جاوے کہ احمدیہ مسجد کا انتظام ہو۔ مگر جب ظہر کے بعد میں ان دوستوں کو جو مسجد میں موجود تھے، یہ تجویز سنانے لگا تو بجائے پانچ سات ہزار کے میرے منہ سے نکلا کہ پندرہ ہزار کی تحریک کی جائے اور قرض کے طور پر جماعت سے لیکر یہ روپیہ بھیجدیا جائے۔ پھر آہستہ آہستہ ادا ہو جائے گا۔ اس وقت چند دوست مسجد میں تھے ۔ اسی وقت چنده شروع ہوگیا اور چھ سو روپیہ اُسی وقت ہو گیا۔ گھر جا کر جب میں نے والدہ اور اپنی بیبیوں سے ذکر کیا تو دو سو وہاں ہوا ۔ پھر جب میں مضمون لکھنے لگا تو بجائے پندرہ کے میں ہزار کھا گیا پہلے خیال تھا کہ قرض لیا جائے لیکن جب میں مضمون لکھ چکا تو دیکھا کہ مضمون تو مکمل ہو گیا ہے اس میں آگے لکھنے کی گنجائش نہیں۔ لیکن اس میں قرض کی بات رہ گئی ہے ۔ میں نے ہر چند چاہا کہ کہیں اس کو داخل کروں مگر اس کے درج کرنے کی کوئی جگہ نہ ملتی تھی ۔ اس سے معلوم ہوا کہ ! یہ خدا ہی کا تصرف ہے ۔ کل شام کے وقت کچھ دوست مسجد مبارک میں جمع ہوئے ، وہاں تحریک کی اور آج عورتوں میں تحریک کی تو مجھے بتلایا گیا کہ آٹھ ہزار کے وعدے ہو چکے ہیں جس میں یسے بہت سی رقم وصول بھی ہو چکی ہے ۔ اس حساب سے معلوم ہوتا ہے کہ قادیان سے ایک معقول ت سی رقم ۔ رقم وصول ہو گی اور اب آپ صاحبوں کو اسی کے لئے جمع کیا گیا ہے جب یہ تحریک با ہر جائیگی تو نشاند وہاں بھی جلد یہ تحریک کامیاب ہوگی۔ ہندوستان اور ولایت کے اخراجات کی نسبت ممکن ہے کہ بعض کے دل میں یہ خیال پیا اور ہو کہ تمہیں ہزار روپیہ ہو کہ تمیں ہزار روپیہ کی لاگت سے وہاں جو عمارت بنے گی وہ بہت عظیم الشان ہوگی اور یہ ہماری موجودہ حالت کے لحاظ سے ایک اعراف ہے، تو اس کے متعلق یاد رکھو کہ انگلستان کا ملک ہمارے ملک کی طرح نہیں ۔ اگر یہاں ایک روپیہ نہیں، اگر یہاں روپیہ میں ایک چیز ملتی ہے تو وہاں وہی چیز پندرہ روپیہ کی ہے۔ اسی نسبت سے وہاں مزدوری کی گرانی ہے۔ کیونکہ ایک روٹی آٹھ آنے میں آتی ہے اور ایک انڈا چھ آنہ میں ملتا ہے۔ یہیں جینک