انوارالعلوم (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 359 of 653

انوارالعلوم (جلد 5) — Page 359

انوار العلوم جلد ۳۵۹ اسلام پر پروفیسر رام دیو کے اعتراضات کا جواب جو مسلمانوں کے حملہ سے پہلے ہندوستان میں موجود تھے ۔ انہوں نے غیر اقوام کے حملہ کے مقابل جو اتحاد کیا تھا اسی کا نام ہندو مذہب ہے۔ حملہ آور قوموں کے لوگ ہر ایک ایسے شخص کو جو ہندوستان کا رہنے والا تھا اپنے مقابل پر لڑتے ہوئے دیکھ کر ان کے بران کے مذہبی اختلاف سے ناواقف ہونے کے سبب ہندو کہدیتے تھے اور اس سے ہندو مذہب ایک نئی اصطلاح بن گئی۔ بلکہ ہند و قانون بھی در حقیقت انگریزی زمانہ کی ایجاد ہے انگریزوں نے بعض تعلیم یافتہ ہندو مذاہب کی عام رسوم کو دکھ کر ایک قانون تیار کر دیا اور خیال کر لیا کہ سب ہندو اس کے پابند ہیں اور اس کو رائج کر دیا اس سے ہند و قانون تیار ہو گیا ۔ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ بعض مسلمانوں کے لئے بھی اس وقت غلطی سے ہندو قانون وضع کردیا گیا تھا پیس نہ ہندو مذہب کوئی مذہب ہے بلکہ سینکڑوں مذاہب کا سیاسی مجموعہ ہندو مذہب سے پکارا جاتا ہے اور نہ ہندو قانون کوئی قانون ہے بلکہ یہ قانون انگریزوں کا بنایا ہوا ہے۔ جنھوں نے اس ملک کے حالات سے ناواقف ہونے کے سبب بعض اقوام کے قانون کو سارے ہند کے غیر مسلم مذاہب پر جاری کر دیا ۔ چنانچہ اب تک کئی اقوام ہندوستان میں ایسی موجود ہیں جنھوں نے اس قانون کو تسلیم نہیں کیا اور اس قانون سے بچنے کے لئے وہ اپنے مقدمات کو انگریزی عدالتوں میں لے جاتے ہی نہیں۔ مسٹر پی ٹی سری نواس اننگر ایم۔ اے۔ ایف ایم لکھتے ہیں کہ ہندووں کے زمانہ میں کوئی ایسا بند و قانون نہ تھا جو سب ہندوستان پر حاوی ہو کیونکہ اس ملک کی نہ دنیاوی حکومت ایک تھی نہ کسی ایک مذہبی انتظام سے وہ لوگ تعلق رکھتے تھے۔ پھر لکھتے ہیں کہ لاکھوں لاکھ آدمی ایسے ہیں جو عدالتوں میں اپنے مقدمات لے ہی نہیں جاتے بلکہ اپنے قومی قانون کے مطابق گھروں میں فیصلہ کر لیتے ہیں ۔ ہندووں میں ویدوں کو نہ ماننے والی قومیں ہندوؤں میں ایسی قومیں بھی پائی جاتی ہیں جو ویدوں کو نہیں باستین چنانی ویدوں کو نہیں مانتیں چنانچہ جینی و بدوں کو نہیں مانتے اسی طرح اور کئی تو میں ہندو کہلاتی ہیں لیکن وہ ویدوں کو نہیں مانتیں ۔ تو کیا ایک دو اشخاص کے مسلمان کہلا کر قرآن کریم کا انکار کرنے سے اگر یہ نتیجہ نکل آتا ہے کہ قرآن کریم اب دنیا کو تسلی نہیں دے سکتا تو لاکھوں نہیں کروڑوں آدمیوں کا ہندو کہلا کر دیدوں کا انکار کرنا کیا یہ ثابت نہیں سکتا کرتا کہ وید بھی اب دنیا کو تسلی نہیں دے سکتے ۔ شاید پروفیسر صاحب کہیں کہ جین مت تو ایک علیحدہ مذہب ہے مگر اول تو میں امید نہیں کر سکتا کہ وہ ایسا کر سکیں کیونکہ اس وقت کی سیاسی جدو جہد کی موجودگی میں جبکہ ہندو ان اقوام کو بھی اپنے اندر شامل کرنے کی کوشش میں ہیں جو خود اپنے آپ کو ہندوؤں سے البيت