انوارالعلوم (جلد 5) — Page 356
انوار العلوم جلد ۵ ۳۵۶ اسلام پر پروفیسر رام دیو کے اعتراضات کا جواب لوگوں پر یورپ کی علمی ترقی کا اثر لیا گرا پڑا ہے کہ اب وہ ان عقائد کو ترک کر بیٹھے ہیں جو ان کے مذاہب نے بتائے ہیں۔ اگر کسی شخص کا خواہ وہ لیڈر ہی کیوں نہ ہو آریہ سماج سے کلی طور پر قطع تعلق کرنا یا اس کے بعض اصول کو ترک کر دینا اس امر کا ثبوت نہیں کہ اگر یہ سماج اب ایک مردہ مذہب ہو گیا ہے تو مسلمان کہلانے والے کروڑوں آدمیوں میں سے اگر چند لوگ اسلام کے اصول کے خلاف اپنی رائے کا اظہار کریں تو اس سے اسلام کے زمانہ ماضی کا مذہب ہو جانے کا ثبوت کہاں سے نکل آیا۔ دوسری مثال دوسری مثال رائے بہادر لار مولراج صاحب ایم اے کی ہے جو آریہ سماج سے ایک دیرینہ رکن ہیں۔ ان کی نسبت پرکاش کار جوان شادی میں ایک ۱۳ صاحب نے شائع کرایا ہے کہ انھوں نے بیان کیا کہ وہ وید کو نہ پہلے مانتے تھے اور نہاب مانتے ہیں۔ بلکہ انہوں نے یہ بھی کہا کہ میں نے رشی دیانند صاحب سے بھی کہا تھا کہ وہ اس شرط کو کہ آریہ سماج میں داخل ہونے کے لئے وید کا ماننا ضروری ہے نکال دیں تاکہ وید کو نہ ماننے والے بھی آریہ سماج میں شامل ہو سکیں ۔ اب پروفیسر رام دیو صاحب بتائیں کہ اگر مسٹر خدا بخش کے قرآن کریم کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ڈائری قرار دینے سے اسلام کے متعلق شبہ پڑ جاتا ہے کہ وہ ضرورت زمانہ کو پورا نہیں کر سکتا تو لالہ مولراج صاحب ایم اے کے دید نہ ماننے سے کیوں یہ ثابت نہیں ہوتا کہ وید بھی اب ضرورت زمانہ کو پورا نہیں کر سکتے ۔ تیسری مثال تیری شال و ارمنشی رام صاحب کی ہے جو گور کل کا انٹری کے بانی کلا نے ایں اور جن کے ماتحت کام کرنے کا فخر غالباً پروفیسر رام دیو صاحب کو بھی ہے ۔لالہ منشی رام صاحب نے نیوگ کے عقیدہ کی نسبت جسے پنڈت دیانند صاحب ہندو مذہب کی تعلیمات میں شامل کرتے ہیں بیان کیا کہ یہ نیچے اور گرے ہوئے لوگوں کا فعل ہے (دیکھو آر یہ پیپر کا لاہور، گو لالہ صاحب نے سُنا ہے کہ بعد میں اپنے کلام کی تشریح کی مگر وہ تشریح آریہ صاحبان کے عام طریق عمل کو مد نظر رکھتے ہوئے ان کے بیان کو زیادہ نہیں سلجھاتی کیونکہ آریہ صاحبان میں ایسے لوگ شاذ ہی پائے جاتے ہیں جو نیوگ کی تعلیم پر علی الاعلان عمل کرنے کے لئے تیار ہوں اور لالہ منشی رام صاحب تو عقلمند اور فہمیدہ آدمی ہیں ان سے کم عقل کے آریہ صاحبان کو بھی میں دیکھتا ہوں کہ وہ اس عقیدہ سے بیزار نظر آتے ہیں تو جب ان کی اس بیزاری کے باوجود پروفیسر صاحب کو آریہ مذہب دنیا کی ہدایت کے لئے کافی نظر آتا ہے تو پھر سوال یہ ہے کہ جب اگر یہ صاحبان نیوگ کو بے حیائی کہیں اور اس سے