انوارالعلوم (جلد 5) — Page 354
انوار العلوم جلد ۵ ۳۵۴ اسلام پر پروفیسر رام دیو کے اعتراضات کا جواب صلی اللہ علیہ وسلم کو صرف ایک فلسفی یا تجربہ کار مصلح سمجھتے ہیں تو پھر وہ لوگ مرتد ہیں اور کونسا مذہب ہے جس میں سے کبھی کوئی مرتد نہیں ہوا اور اگر دوسری صورت ہے یعنی وہ لوگ اسلام پر اعتراض نہیں کرتے بلکہ ان کا یہ یقین ہے کہ اسلام کی جو تشریح دوسرے لوگ کرتے ہیں وہ غلط ہے اس کی تشریح وہ ہے جو انہوں نے پیش کی ہے۔ تو پروفیسر صاحب بتائیں کہ وہ کونسا مذہب ہے جس کی تشریح کے متعلق اس کے ماننے والوں میں اختلاف نہیں اور کیا وہ اس اصل کے ماتحت جو انھوں نے قائم کیا ہے دنیا کے تمام مذاہب کو جن میں آریہ سماج اور ویدک دھرم بھی یقیناً شامل ہوگا جھوٹا سمجھ لیں گے۔ تعصب کی بیٹی نصیب انسان کی آنکھ پر پٹی باندھ دیتا ہے معلوم ہوتا ہے کہ پروفیران کو اتفاقاً ان چند اختلافات پر اطلاع ہو گئی اور انھوں نے سمجھ لیا کہ اب اسلام مٹا اور اس کا نشان دنیا سے غائب ہوا کیونکہ بعض مسلمانوں نے بھی قرآن کریم یا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر اعتراض کر دیا ہے اور اس خوشی میں اس امر کو بھول گئے ہیں کہ یہ دلیل نہیں بلکہ صرف ایک تمنا ہے جو نہ آج تک بر آئی ہے نہ آئندہ اس کے ہر آنے کی کوئی صورت ہے ۔ کیا۔ پروفیسر صاحب کی دلیل سے اب میں پروفیسر صاحب کو اس امر کی طرف توجہ دلاتا ہوں آریہ مت بیجا ثابت ہو سکتا ہے کہ اگر یہ دل جوانوں نے پیش کی ہے اس تیم پہنچاتی ہنچا ہے جو انہوں نے نکالا ہے تو خود آکر یہ مت بھی اس کی زد سے نہیں بیچ سکتا۔ چنانچہ مثال کے طور پر میں اگر یہ سماج کے چند ممبروں کے اقوال پیش کرتا ہوں جن پر آریہ سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر یہ سماج ایسے لوگوں سے پڑ ہے جو آریہ سماج کی تعلیم پر یقین نہیں رکھتے اور اسے دنیا کے لئے کافی نہیں خیال کرتے۔ پہلی مثال چنانچہ سب سے پہلے تو میں خود لالہ لاجپت رائے صاحب کو ہی لیتا ہوں جن کے اخبار بندے ماترم میں پروفیسر رام دیو صاحب کے لیکچر کا خلاصہ چھیا ہے ۔ یہ ۔ صاحب آریہ سماج کے ایک سرگرم ممبر تھے بلکہ انھوں نے قریباً اپنی زندگی ہی اس کی ترقی کے لئے وقف کی ہوئی تھی لیکن اب وہ آریہ سماج کے متعلق جو خیال رکھتے ہیں وہ یہ ہیں :- میں ویدوں کو الیشور گیان نہیں مانتا ۔ اپنے ضمیر کے مطابق ان کا پر چارہ نہیں کر سکتا ۔ ویدک مشتری نہیں بن سکتا ۔ حتی کہ میں آریہ سماجی بھی نہیں کہلا سکتا ۔ بقول آریہ اخبار ہمالہ ۳ ارمنی نہ انھوں نے اپنے ایک مضمون میں یہ بھی لکھا تھا کہ اب وید ہدایت کا کام نہیں دے سکتے ان کا خیال چھوڑ دو۔