انوارالعلوم (جلد 5) — Page 352
انوار العلوم جلد ۵ ۳۵۲ اسلام پر پروفیسر رام دیو کے اعتراضات کا جواب ترقی میں بہت سا حصہ ہے اور جس کی انتھک کوششوں کے نتیجہ میں جاپان کو غیر ملکی حکومتوں کے دخل سے آزادی حاصل ہوئی ہے تار کے اجراء پر حکومت کی سخت مخالفت کی تھی اور بزور شمشیر اس کے اس فعل کا مقابلہ کیا تھا اور اسی طرح ریل کو اپنے علاقہ میں بننے نہ دیا تھا اور یہ مخالفت اس قدر بے عرصہ تک رہی کہ شاہ سے پہلے وہاں ریل نہ بنائی جاسکی حالانکہ یہ قبیلہ شاہی فرمانبرداری میں سب قبائل پر فوقیت رکھتا تھا اور ایڈمرل ٹوگو اور مارشل ٹا کا ماری جیسے لائق آدمی اس میں پیدا ہوئے۔ پس جب لوگ دنیاوی فوائد کو پرانی عادات کی بناء پر رد کردیتے ہیں تو روحانی خیالات کو جو ان کے دیرینہ خیالات کے خلاف ہوں کیوں نفرت کی نگاہ سے نہ دیکھیں اور کیوں ان کو رد نہ کریں۔ ایسے خیالات کی اشاعت کے لئے وقت چاہئے ۔ خواہ اسلام کو یورپ مسلمانوں کے ایشیائی ہونے کے سبب سے نفرت کی نگاہ سے دیکھے خواہ اس سبب سے کہ یہ مذہب ان کے مذہب کے بعد پیدا ہوا ہے مگر اسلام اگر سچا ہے تو وہ قدیم سنت کے مطابق ان کے خیالات پر غالب آکر رہے گا اور یورپ کی نفرت کو محبت سے بدل کر رہے گا۔ یورپ پر اسلام کے غالب آنے کے آثار چنانچہ ہم اس کے آثار ابھی سے دیکھتے ہیں۔ باوجودیکہ یورپ کے لوگوں میں اسلام کی تبلیغ شروع کئے ابھی زیادہ عرصہ نہیں گذرا کہ حق جو لوگوں میں تحقیق کا خیال پیدا ہو گیا ہے اور آہستہ آہستہ ایک ایک دو دو کر کے وہ اس کے قبول کرنے کی طرف متوجہ ہو رہے ہیں ۔ ۔ اسلام کے مقابلہ میں ویدک دھرم نے کیا کیا پروفیسر صاحب کو یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ جس مذہب کی نسبت ان کا خیال ہے کہ وہ کا خ قومی اختلاف کے سبب یورپ کے لوگوں میں اشاعت نہیں پاسکتا وہ تو دنیا میں اپنی تبلیغی کامیابیوں نہیں کے شاندار نمونہ خواہ وہ وحشی قوموں میں ہی کیوں نہ ہوں دکھا بھی چکا ہے لیکن جس مذہب کی اندار خود خواهانی حمایت میں وہ کھڑے ہوئے ہیں اُس نے تو وحشی قوموں میں بھی کوئی کامیابی حاصل نہیں کی ۔ کیا اسلام دنیا کا آئندہ مذہب نہیں ہو سکتا دوسری دلیل پروفیسر صاحب نے اسلام کے خلاف یہ دی ہے کہ وہ سائنس کے حملہ کی برداشت نہیں کر سکا اور خود مسلمانوں کے ایمان متزلزل ہو گئے ہیں اس لئے وہ دنیا کا آئندہ مذہب نہیں ہو سکتا ۔ یہ سوال کہ دنیا کا آئندہ مذہب ہونے کے لئے کن شرائط کا پایا جانا کسی مذہب کے لئے