انوارالعلوم (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 349 of 653

انوارالعلوم (جلد 5) — Page 349

انوار العلوم جلد ۵ ۳۴۹ اسلام بہار پروفیسر رام دیو کے اعتراضات کا جواب گائے کی قربانی ترک کرنے کا سمجھوتہ بعض مسلمانوں نے اس نکتہ کو نہیں سمجھا اور جوش میں آکر بلاکسی خاص سمجھوتے کے جو اس فعل کو جائز قرار دیتا گائے کی قربانی کو ترک کرنے کی تحریک شروع کر دی اور اب ہندوؤں سے اس امر کی امید رکھتے ہیں جس کا انہوں نے وعدہ نہیں کیا تھا۔ مسلمان یہ امید ہرگز نہیں کر سکتے کہ ایران اگر یہ کوئی غلطی کریں تو ان کے خوش کرنے کے لئے دوسری قوم بھی جو ان سے اتحاد رکھنا چاہتی ہو با وجود عقل اور سمجھ کے اسی قسم کی ایک غلطی کرے اس سے زیادہ نا جائز مطالبہ اور کوئی نہیں ہو سکتا ۔ اگر کوئی مطالبہ تھا تو اسے ابتداء ہی میں پیش کرنا چاہئے تھا ۔ اب تو " مشتے کہ بعد از جنگ یاد آید برکلہ خود باید زد والی مثال ہے ۔ نیا سے مذہب کی حکومت نہیں اُٹھ سکتی ان مسلمانوں کو خوب یاد رکھنا چاہئے کہ جب تک دنیا آباد ہے اور جب تک انسان اس میں بستا ہے اس وقت تک مذہب کی حکومت دنیا سے اُٹھ نہیں سکتی ۔ مختلف زمانوں میں مذاہب کا اثر شانے کی کوشش کی گئی ہے لیکن انکی گرفت اگر کسی وقت عارضی طور پر ڈھیلی ہو بھی گئی ہے تو پھر تھوڑے ہی عرصہ کے بعد اس کا پنجہ مضبوط ہو گیا ہے پس گو انہوں نے مذہب کے متعلق کسی قسم کی گفتگو کو خلاف اتحاد قرار دیا ہو مگر فطرت انسانی اس فیصلہ کو قبول نہیں کر سکتی یہ فیصلہ بدل کر رہے گا اور اس وقت تک اتحاد قائم نہ ہو گا جب تک اس کی بنیاد صحیح بنیادوں پر نہ ڈالی جائے گی۔ یعنی چند مقررہ قواعد پر جو پہلے سے منضبط کر لئے جائیں تاکہ بعد میں فتنہ کی گنجائش نہ رہے ۔ اس تمہید کے بعد میں پروفیسر رام دیو صاحب پروفیسر صاحب دلائل اسلام کے خلاف کالا یا اس کے بعد می رود کے لیکچر کے اس حصہ پر روشنی ڈالنا چاہتا ہوں جو اسلام کے متعلق ہے ۔ اخبار بندے ماترم لاہور کے نہیں نومبر کے پرچہ میں جو خلاصہ پروفیسر صاحب کے لیکچر کا لکھا گیا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ انھوں نے اسلام کو اس زمانہ کی ضروریات کے پورا کرنے کے ناقابل ان دلائل سے قرار دیا ہے کہ (ا) مسلمانوں کا رنگ گورا نہیں اس لئے وہ سے قرار کہ کا یورپ کی مشکلات کو حل نہیں کر سکتے (۲) بعض مسلمان بھی اسلام کی تعلیم پر اعتراض کرنے لگ گئے ہیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ سائنس کے حملوں کا اسلام مقابلہ نہیں کر سکتا ۔ اس دعوئی کی تائید میں انھوں نے مندرجہ ذیل مثالیں بیان کی ہیں ، مسٹر خدا بخش ایم اے نے لکھا ہے کہ قرآن کریم محمد صاب