انوارالعلوم (جلد 5) — Page 343
انوار العلوم جلد ۵ ۳۴۳ اسلام اور تربیت و مساوات زیادہ بھیانک صورت میں پادری بھی پیش نہیں کرتے اور اس صورت میں اسلام مغربی ممالک میں نہیں پھیل سکتا۔ مجھے خواجہ صاحب کے اس اعتراض پر تعجب ہے ۔ وہ واقعات کو اس طرح نظر انداز کر دیتے ہیں کہ حیرت ہوتی ہے ۔ ان کو معلوم ہونا چاہئے تھا کہ جبکہ وہ اسلام جس کے وہ قائل ہیں روز بروز تنزل کی طرف قدم اُٹھا رہا ہے اور مسیحیوں کے حملوں سے نیم جان ہو رہا ہے ۔ وہ اسلام جسے میں پیش کرتا ہوں یورپ اور امریکہ میں اللہ تعالیٰ کے فضل کے ماتحت پھیل رہا ہے۔ خود میری تین بیویاں ہیں اور یورپ کے نومسلم ان سائل کو خوب اچھی طرح بھتے ہیں بلکہ والی عورتین شادی شدہ مسلمہ مرد کے ساتھ شادی کرنے پر تیار ہیں اور کرتی ہیں۔ اور ہمارے نزدیک جو اسلام کی تعلیم ہے اس سے ایک حد تک واقف ہیں پیس عملی کامیابی کو نظر انداز کر کے عملی ناکامی کو اصل کامیابی کا راستہ قرار دینا ایک ایسا فعل ہے جس کی حقیقت کو خواجہ صاحب یا ان کے ہم خیال ہی سمجھ سکتے ہیں۔ صاحب آخر زائد مال کس کے پاس رہنا چاہئے خواجہ مانا اور میں پر اس امر پر زور دیتے ہیں کہ جو شخص مال کماتا ہے اپنی ضرورت کے مطابق خرچ کر سکتا ہے اس سے جو زائد بچے وہ اس کے پاس امانت کے طور پر رہے گا اور اگر اس کے اہل کے پاس جاوے گا تو بھی اسی غرض سے جاوے گا ۔ میں اس امر کو نہیں سمجھ سکتا کہ اما نا اس شخص کے پاس مال کیوں رہے گا ۔ امانت اس وقت رکھوائی جاتی ہے جب اس کی ضرورت نہ ہو۔ جب دنیا پر وہ زمانہ نہیں آیا جب سب دنیا کے لوگ آسودہ حال ہو گئے ہوں تو پھر جس شخص کے پاس زائد مال ہو اس کے پاس بقیہ مال کے امانتاً رکھوا دینے کی وجہ کیا ہے ؟ موجودہ حالات میں تو قاعدہ یہ ہونا چاہئے کہ اس سے مال چھین کر فوراً ان لوگوں میں تقسیم کر دیا جائے جو اس سے کم مال رکھتے ہیں اس مساوات کا کیا فائدہ ہے کہ ایک تو لاکھوں روپیہ اپنے گھر میں امانت کے نام سے جمع کر کے بیٹھا ہوا ہو اور دوسرے کے پاس اس سے آدھا سامان معیشت بھی نہ ہو۔ یہ مساوات تو صرف رسمی مساوات ہوگی نہ کہ حقیقی ۔ " پھر یہ بھی سوال ہے کہ جب ضرورت سے زائد مال لوگوں کا ہے تو کسی خاص شخص کے پاس اسکو کیوں امانت رکھا جائے ۔ یہ حق تو لوگوں کا ہونا چاہئے تھا کہ وہ جس کے پاس چاہیں اس مال کو امانت رکھوائیں یا حکومت اس مال کو اپنے پاس رکھنے کی حقدار ہے کہ وہ سب آبادی سے یکساں تعلق رکھتی ہے۔ اور اگر اس بناء پر کہ جس شخص نے محنت سے روپیہ کمایا ہے وہ مستحق ہو گیا ہے کہ اس پر اعتبار کیا جائے اور رو پیر اس کے پاس رہنے دیا جائے تو کیا وجہ ہے کہ آئندہ اس مال کو ورثہ میں تقسیم کیا جاتا ہے