انوارالعلوم (جلد 5) — Page 334
انوار العلوم جلد ۵ ۳۳۴ اسلام اور حریت و مساوات کی طرف منسوب ہو گا تو ہمیشہ اس کے معنے گمراہ قرار دینے یا ہلاک کرنے کے ہوں گے اور ان معنوں یں خدا تعالی کی سب یہ لفظ استعمال کرنانہ بال اعتراض ہے نہ اس کے سبھنے میں کوئی وقت ہے۔ لیکن مطلق العنان کا لفظ بالکل جدا گانہ حیثیت رکھتا ہے ۔ اس کے کوئی اچھے معنے نہیں ہیں ۔ نہ الات رکھتا ہے۔ اس کے کوئی اچھے منے نہیں ہیں نعتاً نه محاورة - پس اضلال پر اس کا قیاس نہیں کیا جا سکتا۔ مساوات ہر جگہ جاری نہ ہونے کے متعلق اعتراض میں نے اپنے پہلے مضمون میں لکھا تھا کہ مساوات پلا دیگر امور پر نظر رکھنے کے ہر جگہ جاری نہیں ہوتی چنانچہ قرآن کریم میں حضرت ابراہیم کی اولاد کی نسبت اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وَجَعَلْنَا فِي ذُرِّيَّتِهِ النُّبُوَةً وَالكِتب (العنکبوت : ۲۸ ) خواجہ صاحب اس کے جواب میں مجھ پر دو اعتراض کرتے ہیں ۔ ایک تو یہ کہ میں نے اس استثناء کو ترک کر دیا ہے جو قرآن کریم نے بیان فرمایا ہے یعنی لَا يَنَالُ عَهْدِى الظَّلِمِينَ (البقرۃ : ۱۲۵) اور دوسرا اعتراض یہ کرتے ہیں کہ اگر اس آیت کے وہ معنی ہیں جو میں نے کئے ہیں تو پھر لِكُلِّ أُمَّةٍ رَسُولُ (یونس : ۴۸) کے کیا معنی ہوں گے ۔ یہ دونوں اعتراض بھی قلت تدبر کا نتیجہ ہیں۔ پہلا اعتراض یہ کہ لَا يَنَالُ عَهْدِی الظَّلِمِينَ سے ظالموں کو مستثنیٰ کر دیا ہے اس لئے غلط ہے کہ اس جگہ یہ سوال نہ تھا کہ ابراہیم کی اولاد میں سے کس کو خدا تعالیٰ نہی بنائے گا۔ بلکہ سوال یہ تھا کہ ایک عظیم الشان انعام اللہ تعالیٰ نے دوسری قوموں کے مقابلہ میں آل ابراہیم کے ساتھ مخصوص کر دیا ہے۔ ہیں اگر بعض آل ابراہیم بھی اس انعام سے محروم کر دیئے گئے ہیں تو اس سے خصوصیت میں فرق نہیں آتا ۔ ال ابراہیم کا امتیاز پھر بھی باقی ہے کہ ایک عظیم الشان انعام ان میں سے ایک فرد کے لئے مخصوص کر دیا گیا ہے ۔ دوسرا اعتراض اس لئے غلط ہے کہ سب قوموں میں نبی آنے کے یہ معنی نہیں کہ ہمیشہ سب قوموں میں نبی آتے رہیں گے ۔ وعدہ ابراہیمی کے پورا ہونے کے وقت سے پہلے پہلے ہر ایک قوم میں نبی آچکے تھے۔ مگر جب وعدہ ابراہیمی کے پورا ہونے کا وقت آیا تو یہ فیض آل ابراہیم کے ایک فرد سے مخصوص کر دیا گیا۔ اور اب آل ابراہیم کے فیض سے باہر ہو کر کوئی فیض نہیں۔ پس وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِي كُلِّ (۳) کی آیت ن سے اس وعدہ الٹی پر تب اعتراض پڑسکتا تھا کہ اگر حضرت ابراہیم ابتدائے عالم میں پیدا ہوئے ہوتے۔ کیونکہ اس صورت میں اگر نبی ان ہی کی اولاد سے آتے تو باقی تمام اقوام اس فیض سے محروم رہ جاتیں ۔ یا یہ اعتراض تب پڑ سکتا تھا کہ اگر آئندہ فیض ایمان ان کی اولاد سے مخصوص کر دیا جاتا۔ لیکن جب تمام اقوام عالم میں نبی مبعوث ہونے کے بعد آخری زمانہ میں محمد رسل الله امَّةٍ رَسُولاً (النحل : ٣٧)