انوارالعلوم (جلد 5) — Page 313
انوار العلوم جلد ۵ ۳۱۳ اسلام اور حرمیت و مساوات رکھا ہے اور حکماً ان کے لئے ایک حصہ اموال کا علیحدہ کر دیا ہے ۔ نہ یہ کہ مال کی تقسیم می مساوات ۔ رکھی ہی طرح ایک آیت نفل کے متے اسی طرح ایک آیت نغل کے متعلق لکھی ہے :- قُلِ الْأَنْفَالُ لِلَّهِ وَالتَّرْسُولِ (الانفال : ٢ ) - کہہ کہ انفال اللہ اور اس کے رسول کے لئے ہیں۔ اس سے نہ معلوم انہوں نے تقسیم اموال میں مساوات کا مسئلہ کہاں سے نکال لیا ہے ؟ کیونکہ اس میں تو یہ بتایا گیا ہے کہ انفال خدا اور اس کے رسول کے ہیں نہ کہ یہ انفال تمام بنی نوع انسان میں برابر تقسیم ہونے چاہئیں۔ اس آیت میں تو لوگوں کے اس سوال کا جواب دیا گیا ہے کہ انفال کیونکر تقسیم ہوں گے اللہ تعالیٰ نے ان کو جواب دیا ہے کہ یہ خدا اور اس کے رسول کا کام ہے کہ جنگ میں آنے والے اموال کو تقسیم کریں ۔ تم حکومت کے معاملات میں دخل کیوں دیتے ہو ۔ اپنی اصلاح کی فکر کرو اور ان باتوں میں نہ پڑو ۔ ایک آیت خواجہ صاحب نے نئے کے متعلق لکھی ہے ۔ اس سے بھی میں نہیں سمجھا کہ مساوات کیونکر نکلتی ہے۔ یہ آیت اس طرح ہے ۔ مَا أَفَاءَ اللهُ عَلَى رَسُولِهِ مِنْ أَهْلِ الْقُرَى فَلِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ وَ لِذِي الْقُرْبى وَالْيَتَمَى وَالْمَسْكِينِ وَابْنِ السَّبِيلِ كَى لَا يَكُونَ دُولَةً بَيْنَ الْأَغْنِيَاءِ مِنكُمْ (الحشر: ) یعنی جو مال دشمن کا کہ بغیر جنگ کے قبضہ میں آئے وہ اللہ اور اس کے رسول اور قریبیوں بتائی اور مساکین اور مسافروں کا حق ہے تاکہ دولت تم میں سے دولتمندوں کے درمیان نہ رہے۔ اس آیت میں مساوات کا کہاں ذکر ہے ۔ اس سے تو صرف یہ نکلتا ہے کہ جس مال کے لئے جنگ نہ کرنی پڑے خود بخود دشمن سونپ دے ۔ یا اور کسی طرح ہلا لڑے قبضہ میں آئے وہ بطور حق کے تقسیم نہیں کیا جا سکتا بلکہ اشاعت اسلام اور امام اسلام اور اس کے قریبیوں اور غریبوں ، تیموں اور مسافروں کے لئے حکومت ہی کے پاس رہے گا ۔ اس میں لوگوں کے اموال کا کیا ذکر ہے ۔ زید اور بکر کے مال کا تو یہاں ذکر ہی نہیں ۔ اس میں تو حکومت کے اموال کی تقسیم کا ذکر ہے اور کئی لا يَكُونَ دُولةً بَيْنَ الْأَغْنِيَاء مِنكُمْ سے بتایا ہے ۔ کہ امراء کو یہ مال نہ دینا چاہئے۔ کیونکہ یہ مال حکومت کا ہے اور بوجہ خود مالدار ہونے کے ان کا حق نہیں ہے کہ اس مال میں سے لیویں ۔ نہ اس جگہ مساوات کا ذکر ہے نہ عدم مساوات کا ۔ بلکہ ایک طرح تو کہہ سکتے ہیں کہ عدم مساوات ہو گئی ۔ کیونکہ ایک حصہ آبادی کو اس مال کے پانے سے روک دیا گیا ہے ۔