انوارالعلوم (جلد 5) — Page 299
انوار العلوم جلد ۔ ۲۹۹ اسلام اور حریت و مساوات کہ مجھ سے پہلے بہت سے رسول تمہاری طرف آئے ہیں جن کے پاس دلائل بھی تھے اور وہ حکم بھی دیتے تھے جس کی طرف تم اشارہ کرتے ہو پھر کیا اگر تم سچے ہو تو تم نے ان کو مان لیا تھا اور ان کا مقابلہ نہیں کیا تھا ۔ ایک جگہ یہ ثابت ہیں کیاگیا کہ وتی قربانی کام ضروری ہے یا نہیں ، صرف ان کو اس جواب سے خاموش کر دیا گیا ہے کہ تمہارا حقی نہیں کہ یہ اعتراض کرو کیونکہ تم ان رسولوں کا مقابلہ بھی کرتے رہے ہو جو سوختنی قربانی کا بھی حکم دیتے تھے مگر چونکہ قرآن کریم ہر ایک پہلو کو مکمل کرتا ہے اگلی آیات میں جا کر یہ بھی جواب دے دیا کہ یہ دعوئی باطل ہے کہ تم کو کوئی ایسا میں جاکر یہ دے کہ یہ باطل ہے کہ کو (۱۸۸۱ حکم تھا۔ تم تو تورات پر افتراء کرتے ہو۔ اور تمہاری یہ عادت ہے چنانچہ ہے چنانچہ آگے چل کر فرمایا کہ وَإِذْ أَخَذَ اللَّهُ مِيثَاقَ الَّذِينَ أُوتُوا الكِتُبَ لَتُبَيِّنُنَّهُ لِلنَّاسِ وَلَا تَكْتُمُونَهُ فَنَبَذُوهُ وَرَاءَ ظُهُورِهِمْ (ال عمران ( ١٨٨) اللہ تعالیٰ نے تو اہل کتاب سے عہد لیا تھا کہ یہ مسائل تو رات کو چھپائیں گے نہیں لیکن یہ اس عہد کے پابند نہ رہے ۔ یعنی اب یہ لوگوں کو غلط مسائل بتانے لگے ہیں۔ جن میں سے ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ اس وقت تک کسی رسول کو نہیں ماننا چاہئے جب تک وہ سوختنی قربانی کا حکم نہ دے۔ قسم سوم کے الزامی جواب ان دونوں قصوں کے سوا یک تیری قسم الزامی جاب کی ہوتی ہے جو بلحاظ دلیل کے ایسی ہی مضبوط ہوتی ہے جیے کہ اصول جواب کیونکہ گو وہ بظاہر ان ای جواب نظر ہے ۔ اس اصل غرض میں ہوئی ہیے کہ اصولی جواب کیونکہ گو وہ بظاہر الزامی جواب نظر آتی ہے۔ لیکن اس کی اصل غرض نہیں ہوں ہے کہ اصولی جواب کی طرف سائل کی توجہ کو پھیرا جائے تفصیل اس اجمال کی یہ ہے کہ بھی معترض ہے کہ اصولی جواب کی ان کی توجہ کو اس اجمال کی ہے کو یا قرم کو سمجھانے کے لئے اس کے اعتراض کے جواب میں اسی کے عقیدہ اور خیال کی ایک ایسی بات ی بات اس کو یاد دلائی جاتی ہے جو بعینہ اسی قسم کی ہوتی ہے۔ جس پر اس شخص نے اعتراض کیا ہوتا ہے لیکن جس طرح یہ بات قابل اعتراض نہیں ہوتی جس پر اعتراض کیا گیا ہے وہ بھی قابل اعتراض نہیں ہوتی ۔ قرآن کریم سے تیسری قسم کے الزامی جواب کی مثال اس قسم کے الزامی جواب قرآن کریم میں بھی دیئے گئے ہیں۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ کفارہ کا اعتراض سورہ انبیاء میں نقل فرماتا ہے کہ هَلْ هُذَا إِلَّا بَشَرٌ مِثْلُكُمُ (الانبياء ( ۳ ) : نہیں ہے یہ شخص مگر تمہارے جیسا ایک آدمی۔