انوارالعلوم (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 291 of 653

انوارالعلوم (جلد 5) — Page 291

انوار العلوم جلد ۲۹۱ اسلام اور حریت و مساوات که به تشریح ان الفاظ کی اسلامی احکام میں شامل ہے یا اسلام کے رو سے جائز ہے یا منع ہے اور پھر میرے جواب پر جو چاہتے لکھتے ہیں تو سائل سے ان الفاظ کی تشریح چاہتا ہوں اور خواجہ صاحب پر تو سے ان کی چاہتا اور پہلے ہی جواب لکھنا شروع کر دیتے ہیں۔ کاش ! وہ جواب لکھنے کی طرف توجہ کرنے سے پہلے میرے خط کو سمجنے کی تکلیف گوارا کرتے ۔ اصول کا لفظ ارکان اسلام کے معنوں میں استعمال کیا گیا دوسری ٹھوکر جلد بازی ۔۔۔۔ کے سبب سے خواجہ محمد عباد الله صاحب اختر نے یہ کھائی ہے کہ انہوں نے یہ نہیں سوچا۔ کہ میں نے اُصول اسلام کے الفاظ کن معنوں میں استعمال کئے ہیں ۔ جیسا کہ میری تحریر سے ظاہر ہوتا ہے یہ الفاظ میں نے ارکانِ اسلام کے معنوں میں استعمال کئے لیکن خواجہ صاحب کی تحریر سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ انہیں احکام کے معنوں میں استعمال کرتے ہیں ۔ حالانکہ احکام تو اسلام کے سینکڑوں ہیں ۔ مگر صرف چند ہی ارکان کا پتہ قرآن کریم اور احادیث سے معلوم ہوتا ہے۔ چنانچہ جن عقائد کو خدا تعالیٰ نے ایمان میں شامل کیا ہے اور ان کا انکار کفر قرار دیا ہے ۔ وہ ارکان ایمان ہیں اور قرآن کریم سے ایسی باتیں پانچ ہی ثابت ہوتی ہیں ۔ اول اللہ تعالیٰ پر ایمان لانا ۔ دوم ملائکہ پر سوم نبیوں پر - چهارم کتب سماوی پر پنجم بعث ما بعد الموت پر ۔ چونکہ خدا تعالیٰ پر ایمان لانے کے اندر ہی اس کی صفات کے ظہور پر ایمان لانا بھی شامل ہے۔ اس لئے مسلمانوں نے ایمان بالقدر کو بھی ارکان ایمان میں شامل کیا ہے۔ اور یہ ان کا فیصلہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات کے مطابق ہے۔ قرآن کریم سے ارکان اسلام کا ثبوت قرآن کریم سے ارکان اسلام مختلف آیات کے مطالعہ سے معلوم ہوتے ہیں۔ جن میں سے ایک یہ آیت ہے :۔ وَمَنْ يَكْفُرُ بِاللهِ وَمَلَئِكَتِهِ وَكُتُبِهِ وَرُسُلِهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَقَدْ ضَلَّ ضَلَلا بَعِيدًا (النساء : ۱۳۷) جو شخص کفر کرتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ کا ملائکہ کا اور اس کی کتب کا اور اس کے رسولوں کا اور یوم آخر کا وہ دور کی گمراہی میں مبتلا ہو گیا ۔ اسی طرح فرماتا ہے :- إِنَّ الَّذِينَ يَكْفُرُونَ بِاللهِ وَرُسُلِهِ وَيُرِيدُونَ أَنْ تُفَرِّقُوا بَيْنَ اللَّهِ وَرُسُلِهِ وَيَقُولُونَ نُؤْمِنُ بِبَعْضٍ وَنَكْفُرُ بِبَعْضٍ وَيُرِيدُونَ أَنْ يَتَّخِذُوا بَيْنَ ذَلِكَ سَبِيلا ، أُولَئِكَ هُمُ الْكَفِرُونَ حَقًّا وَ أَعْتَدْنَا لِلْكَفِرِينَ عَذَابًا مُّهِينًا ، النساء: (1)