انوارالعلوم (جلد 5) — Page 276
انوار العلوم جلد ۵ ۲۷۶ ترک موالات اور احکام اسلام کورسوں کا نہیں ، یونیورسٹیوں کا نہیں ، یہ سب تمہاری غفلت اور تمہاری سستی کا نتیجہ ہے ۔ فوجی خدمات سے تمہارا مقصود کیا تھا میں پھر اصل مضمون کی طرف آتا ہوں میں تسلیم کرتا ہوں کہ تم جنگ میں گئے اور تم نے سب خوب جانبا زیاں کیں اور ترکوں کو مارا اور ان کے خون سے میدان کو رنگ دیا ۔ مگر کیا خدا کے لئے الیسا خوب جانبازیاں ہیں اور ترکو کو مارا اوران اورترکوں مگر خداکے کو کے کونسے میدان نا مگر کیا یا کیا ؟ اس لئے کیا کہ خدا تعالیٰ حکم دیتا ہے کہ اپنے حاکم کی اطاعت کرو ؟ یا جس وقت فوج میں لئے کیا خداتعالیٰ حکم دیتا کہ کی کرو؟ یا بھرتی ہوتے تھے ساتھ ساتھ یہ بھی کہتے جاتے تھے کہ ہم کافر ہور ہے ہیں اور دس دس روپے کے لئے اپنی جانیں شیطان کے ہاتھ بیچ رہے ہیں اور ہر ایک کا نمایاں جو تم سے سے ہوتا تھا اس کے بدلے اپنے افسروں کو زمینوں کی درخواستوں اور خطابات سے گھبرا دیتے تھے جس غرض سے تم یہ ب کام کرتے تھے وہ غرض تمہاری ایک حد تک پوری ہو گئی ۔ خطاب بھی تم نے پائے، نوکریاں م کے بھی حاصل ہوئیں، جاگیریں بھی ملیں ، تمنے بھی لگے ، غرض تمہارا معراج تم کو حاصل ہو گیا ۔ اب اور کون سا تمہارا حق تھا جس کے بدلے میں تم نے انگریزوں سے ترکوں کی جان بخشی کا سوال کیا ہے ؟ کیا وہ نہیں جانتے تھے کہ تم مذہباً اس جنگ کو نفرت کی نگاہ سے دیکھتے تھے اور صرف نوکریوں کی خاطر یا انعام حاصل کرنے کے لئے گورنمنٹ کو خوش کرنے کے لئے یا خطابوں اور جاگیروں کی خواہشات سے فوج میں بھرتی ہو کر جا رہے ہو الا ماشاء اللہ ۔ پھر جب وہ دیکھتے تھے کہ تم اپنے عقیدہ کو جو کو غلط تھا مگر بہر حال تم اس کو مانتے تھے دنیوی فوائد کے لئے قربان کر رہے ہو تو ان کے دلوں پر اسلام کی تعلیم کا کیا اثر ہوتا اور اس موالات سے وہ اسلام کے قریب کیونکر آتے ؟ یہ بدنتیجہ تم نے موالات کا نہیں بلکہ اپنی نیتوں کا پایا میں یہ غلط ہے کہ تم نے پس موالات کا تجربہ کر لیا اور اس کو نقصان دہ پایا۔ تم نے موالات کا بدنی نہیں کیا بلکہ اپنی یوں کا نتیجہ دکھا اگر تم ان و اسلم کی خوبیوں کا قائل کرنے کے لئے ان سے ملتے اپنے کاموں میں دیانتداری اور اخلاص کا نمونہ دکھا کر اسلام کی تعلیم کا اثر ان پر ثابت کرتے، موقع ملنے پر اسلام کے متعلق گفتگو کرتے اور ان کی پرستش نہ کرتے بلکہ ان کو خدائے واحد کی طرف توجہ دلاتے تو کیا ان کے دل پتھر کے تھے کہ ان پر اثر نہ ہوتا ؟ وہ انسان ہیں اور حسن پر فدا ہونے کی اہلیت رکھتے ہیں۔ جب ان کی آنکھیں خدا کے ایک نئی کو دیکھ کر چندھیا گئیں تو جب وہ خود اللہ تعالیٰ کا چہرہ دیکھیں گے تو کیا اس کے نور سے ان کی آنکھیں منور نہ ہوں گی ؟ جب حضرت مسیح نے ان کو فریفتہ کرلیا تو یا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے دلوں پر قابو نہ پائیں گے ؟