انوارالعلوم (جلد 5) — Page 273
انوار العلوم جلد ۲۷۳ ترک موالات اور احکام اسلام نسخہ بھی ترک کیا کرتا ہے ؟ کیا اب اسلام میں ہی ایسا جذب نہیں رہا کہ وہ فاتحین کے دلوں کو مسخر کر سکے اور ان کو اپنی غلامی کے حلقہ میں لاسکے یا تم میں ہی وہ نوکر ایمان نہیں رہا جو تمہارے آباء میں تھا؟ ان کی ر لامی کے حلقہ میں بام میں ہی وہ رہا جو ہمارے آباء میں ان باتوں کا دلوں پر اثر ہوتا تھا لیکن تمہاری باتیں بالکل لیے اثر ہیں ۔ کیا سبب ہے کہ وہ محبت سے دشمن کو دوست بنا لیتے اور تم دوست کو عداوت سے دشمن بنانا چاہتے ہو؟ یا دوست نہ سہی دشمن کو اور بھی زیادہ دشمن بنانا چاہتے ہو ؟ اس مذہبی معاملہ میں مسلمان مسٹر گاندھی کی اقتداء میں کیا کیا تم کویہ نظرنہیں آتا کہ تم اس صحیح راستہ کو ترک کر کے کہاں کہاں دھکے کھاتے پھرتے ہو ؟ اول تو تمام علماء و فضلاء کو چھوڑ کر ایک غیر مسلم کو تم نے لیڈر بنایا ہے کیا اسلام اب اس حد تک گر گیا ہے کہ اس کے ماننے والوں میں سے ایک روح بھی اس قابلیت کی نہیں ہے کہ اس طوفان کے وقت میں اس کشتی کو بھنور سے نکالے اور کامیابی کے کنارے پہنچائے ؟ کیا اللہ تعالیٰ کو اپنے دین کی اس قدر غیرت بھی نہیں رہی کہ وہ ایسے خطرناک وقت میں کوئی ایسا شخص پیدا کر دے جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا شاگرد اور آپ کے خدام میں سے ہو اور جو اس وقت مسلمانوں کو اس راستہ پر چلائے اور جوان کو کامیابی کی منزل تک پہنچائے ؟ آہ ! تمہاری گستاخیاں یہ کیا رنگ لائیں ؟ پہلے تو تم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مسیح ناصری کا ممنون منت بنایا کرتے تھے اب مسٹر گاندھی کا مرہون احسان بناتے ہو ؟ اگر یہ درست ہے کہ ترک موالات سے ایک دو سال میں تم اپنے مقاصد میں کامیاب ہو جاؤ گے تو اسلام کی دوبارہ زندگی یقیناً مسٹر گاندھی کے ہاتھوں ہوگی اور نعوذ باللہ من ذالک ابدالاباد تک محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا سر مبارک بار احسان سے ان کے سامنے جھکا رہے گا کیونکہ مسٹر گاندھی نے آپ سے کچھ نہیں لیا اور آپ گویا سبھی کچھ مسٹر گاندھی کی عطا سے پاویں گے ۔ اے کاش! اس خیال کے دل میں آنے سے پہلے تم نے اس دل ہی کو کیوں نہ نکال کر باہر پھینک دیا ؟ مسٹر گاندھی بے شک ایک سنجیدہ اور محنتی سیاسی لیڈر ہیں لیکن ان کو اس امر میں راہنما بنا نا جس پر تم اسلام کی زندگی اور موت کا انحصار سمجھتے ہو اور جسے تم اہم ترین مذہبی فرائض میں سے خیال کرتے ہو قابلِ افسوس و حیرت نہیں تو اور کیا ہے ؟ کیا حضرت مسیح ناصری کو انحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا محسن بنا کر تم نے خدا کی غیرت کا مشاہدہ نہ کیا ؟ خدا کا مسیح تم کو ہزار سمجھاتا تھا کہ یہ غضب نہ کرو کہ اسلام سے باہر کے نبی کو لا کر اسلام کا مصلح بناؤ اور رسول کریم کو اس کا ممنون بناؤ۔ اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی ہنگ کرو اور اس کی عزت بڑھاؤ ۔ پہلے اس حرکت کی سزا بہت کچھ پا چکے ہو اور اب شه