انوارالعلوم (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 270 of 653

انوارالعلوم (جلد 5) — Page 270

انوار العلوم جلد یکساں ۲۷۰ ترک موالات اور احکام اسلام مسلمان کا دل بھی اس پر غمگین نہ ہوا اور وہ اسی طرح اپنے عیش و طرب میں مشغول رہے جس طرح کہ پہلے مشغول تھے ان کی تیوروں پر بل نہ پڑا اور ان کی آنکھوں نے افسردگی کی جھلک نہ دکھلائی انہوں نے اپنے کندھے ہلا کر لا پرواہی سے کہہ دیا کہ اسلام اگر ہماری ہوا و ہوس کے راستہ میں روک ہے تو اسے تباہ ہونے دو ہمارے عیش میں خلل نہیں آنا چاہئے لیکن جب خدا تعالیٰ نے ان کی آنکھیں کھولنے کے لئے وہ چیز جو اسلام کے مقابلہ میں ایک پیشہ کے برابر بھی قیمت نہ رکھتی تھی اور جس سے مسلمان کھلونے کی طرح کھیل رہے تھے ان کے ہاتھوں سے چھین لی اور اس کو توڑ کر پھینک دیا تو وہ سب رونے اور چلانے لگے اور ماتم کرنے لگے اور آہ و فغاں سے انہوں نے آسمان سر پر اٹھا لیا۔ کیا یہ بات ان کی آنکھیں کھولنے کے لئے کافی نہیں ؟ کیا ابھی انہیں کسی اور ثبوت کی ضرورت ہے ؟ جس سے ان کو معلوم ہو کہ وہ خدا کے نہیں بلکہ اپنے نفوس کے بند سے ہو رہے ہیں اس وقت اسلام کی محبت کہاں گئی تھی جب ہزاروں مسلمان کہلانے والے مسلمانوں کے گھروں میں پیدا ہونے والے قرآن کریم اور رسول کریم صلی اللہ علیہ سلم کو گالیاں دیتے ہوئے اسلام کے دشمنوں اور ایمان کی عمارت پر گولہ باری کرنے والوں کے لشکر میں جماعت در جماعت شامل ہو رہے تھے اور اعدا محمد صل اللہ علیہ علم کے بازوؤں کو قوت دے رہے تھے اس وقت ان کی زبانوں کو کیوں جنبش نہ ہوئی اس وقت ان کے ہاتھوں میں کیوں حرکت پیدا نہ ہوئی اور اس وقت کیوں ان کے خونوں نے جوش نہ مارا ؟ کیا خدا اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے نام کی قیمت اتنی بھی نہیں جتنی کہ عراق یا شام کی ؟ ترکوں پر یورپ نے ظلم کئے تو ان کے دلوں کو صدمہ پہنچا لیکن محمد رسول اللہ صل اللہ علیہوسلم پر ھر توڑے گئے تو کانوں پر جوں تک نہ رینگی۔ جس رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت اور جس کی محبت کے دعوی میں اس قدر جوش دکھایا جا رہا ہے اس کا یہ قول ان کو یاد نہ رہا کہ ایک نفس کو ہدایت ہو جائے تو وہ جانوروں کے ریوڑوں سے زیادہ با برکت ہے مگر یہاں ہے مگر میاں تو کسی نفس کو ہدایت دینا تو الگ رہا اس قدر تڑپ بھی نہ پیدا ہوئی کہ جو اپنے تھے انہی کو گمراہ ہونے سے بچایا جائے ۔ ایک دو ظاہری علاقوں کے جا۔ کے جانے پر اس قدر صدمہ ہوا لیکن لاکھوں روحانی زمینیں ہاتھ سے نکل گئیں اور کوئی تکلیف نہ ہوئی ۔ اسے کاش! اب بھی آنکھ کھلتی اور اب بھی سمجھتے کہ یہ خدا اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت نہیں بلکہ دنیا کی ہوس ہے۔ آج جن بچوں کو کالجوں سے ہٹایا جا رہا ہے اور ان کی خیر خواہی کا راگ گایا جا رہا ہے اس سے پہلے یہ بچے کیوں بھولے ہوئے تھے۔ کالجوں سے ہٹانے کے لئے تو سب سے پہلے ان محرکان ترک موالات کو وہ یاد آئے اور ان کی محبت ان کو کالجوں کے بالوں میں کھینچ کر لائی ۔ لیکن جب علی الاعلان وہ خدا کے