انوارالعلوم (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 268 of 653

انوارالعلوم (جلد 5) — Page 268

انوار العلوم جلد ۵ ۲۶۸ ترک موالات اور احکام اسلام حکومت کے سوا کسی کو اختیار نہ دینے کی حکمت حکومت کے سوا دوسرے لوگوں کو اس کا حکم دینے کا اختیار نہ دینے کی یہ حکمت ہے کہ اس طرح تفرقہ اور شقاق بڑھتا ہے اور بجائے محبت میں ترقی ہونے کے عداوت پیدا ہو جاتی ہے۔ پس افراد کو تو ترک موالات کرنے سے روک دیا گیا ہے اور حکومت کو اختیار دے دیا گیا ہے ۔ حکومت کو اختیار دینے کی ایک یہ وجہ بھی ہے کہ صاحب الامر کی نظر وسیع ہوتی ہے اور وہ فیصلہ دیتے وقت جلدی نہیں کرتا بلکہ اسکو اپنے فیصلہ کے وسیع اثرات کا خیال ہوتا ہے ہیں اس کے ہاتھ میں یہ آلہ محفوظ ہوتا ہے اور نقصان کا خطرہ نہیں ہوتا ۔ یہ بھی ی قسم ترک موالات بھی موجودہ حالات کے مناسب نہیں یہ قسم ترک موالات کی بھی موجودہ حالات کے مناسب نہیں کیونکہ اس وقت بجائے حکومت کی طرف سے اس کے استعمال کئے جانے کے حکومت الامام کے خلاف اس کو استعمال کیا جاتا ہے جو بالکل خلاف اصول اور مخالف قرآن و حدیث ہے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم تو فرماتے ہیں الْإِمَامُ جُنَّةً يُقَاتَلُ مِنْ وَرَائِه (بخارى كتاب الجهاد باب يقاتل من وراء الاه دقیقی به امام ایک ڈھال ہوتا ہے اس کے پیچھے کھڑے ہو کر لڑائی کی جاتی ہے ۔ ایسے تمام احکام ہو حکومت سے تعلق رکھتے ہیں امام کی معرفت ہی ان پر عمل کیا جاتا ہے۔ ہر ایک شخص کو ان کے استعمال کرنے کا حق نہیں ہوتا اگر یہ احتیاط نہ کی جائے تو غیر ذمہ دار لوگ اپنے جوش اور غصہ کی حالت میں اپنے ساتھ دوسروں کو بھی لے ڈو ہیں جیسا کہ آج کل اس حکم کو نظر انداز کرنے کے سبب سے ہو رہا ہے ۔ موجودہ ترک موالات محض ہوائے ہیں اسے برادرانِ ملک ! ترک موالات کی کوئی صورت پس نفس کے ماتحت ہے نہ اسلام کی خاطر بھی اس زمانہ میں جائز نہیں ہے اور اس وقت سے الا برطانیہ کے خلاف اس کا وجوب تو الگ رہا شرعی طور سے اس کے جواز کا بھی فتوی دینا ظلم اور تعدی ہے اور اگر کوئی شخص اس امر پر جوش اور غضب الگ ہو کر سوچے گا تو یقیناً دلائل کے ذریعہ سے بھی اس نتیجہ پر پہنچے گا اور شواہد کے ذریعہ بھی یہی فیصلہ کرنے پر مجبور ہو گا کہ موجودہ شورش صرف خواہشات نفس کا نتیجہ ہے کیونکہ وہ ادنی تامل سے معلوم کرلے گا کہ یہ تمام جوشش جو اسلام کی طرف منسوب کیا جاتا ہے اُس وقت بھڑکتا ہے جب مادی اسباب پر حملہ ہوتا ہے۔ روحانیت اور مغز اسلام کی حفاظت کے لئے کبھی اس قدر غصہ کا اظہار نہیں