انوارالعلوم (جلد 5) — Page 243
انوار العلوم جلد ۔ ۲۴۳ ترک موالات اور احکام اسلام اس سوال کا جواب کہ جہاد صرف تلوار کا ہی نہیں ہوتا شاند بعض لوگ یہ کہ دیں کہ جہاد سے مراد تلوار ہی کا جہاد نہیں ہوتا بلکہ اس کے علاوہ اور بھی جہادیں لیکن یاد رہے کہ گو جہاد صرف تلوار کے جہاد کو ہی نہیں کہتے بلکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نفس کی اصلاح کو بھی جہاد قرار دیا ہے اور اسے تلوار کے جہاد سے بڑا قرار دیا ہے مگر جس قسم کا جہاد اسلام کے خلاف ہو رہا ہو اس کے مقابلہ میں اس قسم کے جہاد کا حکم ہوتا ہے یہ نہیں کہ لوگ تلوار لے کر مسلمانوں سے جبراً تو بہ کرواتے پھریں اور کوئی شخص یہی تو جہیہ کر کے کہہ دے کہ میں نفس کا جہادر جو بڑا ہے کر رہا ہوں اور ان لوگوں کا ہاتھ نہ پڑے۔ کیا کوئی عقلمند اس بات کو جائز قرار دے گا ؟ کہ اس قسم کی توجیہات سے کہ مال کا جہاد ہوتا ہے اور علم کا بھی جہاد ہوتا ہے اور نفس کا بھی جہاد ہوتا ہے اور وقت کا بھی جہاد ہوتا ہے۔ لوگ اپنا پیچھا چھڑا لیں اور اسلام کو دشمن پامال کرتا پھر سے اگر دشمن تلوار کے ساتھ اسلام کو مٹانا چاہتا ہے تو جب تک تلوار ہی کے ساتھ جہاد نہ کیا جاوے کوئی دوسرا جہاد قبول نہیں ہو سکتا۔ کیا جا سکتا کہ جہاد اس سوال کا جواب کہ جہاد فرض کفایہ ہے ہر فرد پر فرض نہیں ریر بھی تو نہیں پیش شبہ ایک فرض کفایہ ہے اگر مسلمانوں کا ایک حصہ جہاد کر رہا ہو تو دوسرا حصہ اگر جہاد میں شامل نہ ہو لیکن ان کی ہمدردی دل میں رکھے یا دوسرے ذرائع سے ان کی مدد کرے تو اس کا حق بھی ادا ہو جاتا ہے۔ کیونکہ گو جهاد فرض کفایہ ہے لیکن اسی وقت تک کہ تلوار سے جہاد کرنے والے باقی مسلمانوں کی طرف سے جہاد میں کفایت کر رہے ہوں اسلام کا فاتح شکر جو اسلم کے خلاف مذہبی جنگ کرنے والوں کو ہرمیدان میں شکست دے رہا ہو بلاشبہ باقی مسلمانوں کو تلوار کے جہاد میں حصہ لینے سے آزاد کر دیتا ہے لیکن اگر اسلامی لشکر شکست کھاتا ہو اگر ایک کے بعد دوسرا علاقہ اس کے ہاتھوں سے نکلا جا رہا ہو ، اگر اسلام کا مٹانے والا دشمن اسلام کو اور اس کے ماننے والوں کو مٹاتا چلا جا رہا ہو تو پھر یہ نہیں کہا جا سکتا کہ جہاد کرنے والے سب مسلمانوں کی طرف سے ان کے فرض کو پورا کر رہے ہیں۔ ایک شب خون جو کسی سرحد پر پڑتا ہے اس کے بچانے کے لئے تو بے شک وہاں کی چوکی کافی ہے اور ساری دنیا کے مسلمانوں کو وہاں جمع ہونے کی حاجت نہیں لیکن اگر دشمن آگے ہی آگے بڑھتا چلا آوے تو پھر لوگ یہ عذر نہیں کر سکتے کہ صرف ساتھ ملنے والے علاقوں پر جہاد ہوتا ہے ۔ کیا وہ اس وقت کا انتظار کریں گے کہ ایک ایک کر کے سب شہر ہاتھ سے نکل جاویں یا آگے بڑھ کر اس رو کو روکیں گے ؟