انوارالعلوم (جلد 5) — Page 238
انوار العلوم جلد ۵ ۲۳۸ ترک موالات اور احکام اسلام نولیس صاحبان نے درج نہیں کیا اس حدیث کے معنوں کو بالکل حل کر دیتا ہے اور اس وقت انگریزوں سے یں ایان نے دور نہیں کی اس حدی کانوں کو ل ل کر دیتا ہے اوراس وقت ترک موالات کرنے کے متعلق اس میں سے کوئی حکم نہیں نکلتا۔ خلاصہ کلام خلاصہ کلام یہ ہے کہ جس قدر بھی دلائل اس وقت تک ترک موالات کی تائید میں دیئے جاتے ہیں لے ہیں ان سے موجودہ زمانہ موجودہ زمانہ میں ترک موالات کا فرض ہونا تو کیا اس کا واجب یا سنت ہونا بھی ثابت نہیں ہوتا اور یہ کہنا کہ اس وقت شریعت اسلامیہ کے احکام کے مطابق ہم ترک موالات کا فتویٰ دیتے ہیں ایک ظلم عظیم ہے اور اسلام سے نہی کرنا ہے ۔ ترک موالات کے حامی عقل کی رو سے صلحت زمانہ کی رو سے، ضروریات موجودہ کی رو سے جس قدر چاہیں ترک موالات پر زور دیں مگر شریعت سے اس کا فرض ہونا ثابت کرنا ایک ایسا اندھیر ہے جو نصف النہار کے سورج کا انکار کرنے سے بھی زیادہ ہے اور اسلام کا ادب اور شریعیت کا احترام رکھنے والا انسان کبھی اس کی جرات نہیں کر سکتا۔ ایک سوال اور اس کا جواب شاید بعض لوگ اس کا پر پیشہ پیدا کیں کہ انگریز اس جگہ وقت چونکہ ایک اسلامی حکومت سے برسر جنگ ہیں اس و لیئے ان سے ترک موالات کا حکم ہے ۔ اور یہ بات تم خود تسلیم کر چکے ہو کہ قرآن کریم نے حربی کفار سے ہے۔ ترک موالات کرنے کو فرض قرار دیا ہے پس جبکہ انگریز ترکوں سے جنگ کر رہے ہیں ان سے حربی کو دیا۔ کافروں والا سلوک ضروری ہے ۔ اس شبہ کا ازالہ یہ ہے کہ اول تو یہ غلط ہے کہ انگریز اس وقت ترکوں سے جنگ کر رہے ہیں ۔ یہ کہ تو انگریزی حکومت کی اس وقت ترکوں سے صلح ہے اور دونوں حکومتوں کے درمیان معاہدہ صلح ہو چکا ہے پس اگر ہندوستان کے مسلمانوں کو جو انگریزی حکومت کی رعایا میں حکام کے برخلاف ترک موالات کرنے کے جو کی اجازت بھی ہوتی تو بھی اس وقت ان کے لئے یہ امر جائزہ نہ تھا۔ کیونکہ اب جنگ ختم ہو چکی ہے اور آپس میں صلح ہو چکی ہے۔ تعجب ہے کہ جو وقت اس سوال کے اُٹھانے کا تھا اس وقت تو اُٹھا یا نہیں گیا بلکہ مسلمان بجائے ترک موالات کے خود لاکھوں کی تعداد میں انگریزی لشکر میں شامل ہوئے اور ترکوں سے جا کر لڑے لیکن اب جنگ کے بعد جب صلح ہوگئی ہے تو یہ سوال اُٹھا یا جاتا ہے۔ کیا اس وقت مسلمانوں کا یہ خیال تھا کہ ترکی حکومت کی تباہی کے بعد اتحادی ان کے سب ملک ان کو پھر واپس کر دیں گے بلکہ کچھ اور ملک اپنے پاس سے بھی دے دیں گے؟ یہ نہیں کہا جا سکتا کہ اس وقت ہمیں شرائط صلح کا پتہ نہیں تھا کیونکہ اول تو شرائط صلح معلوم ہوں یا نہ معلوم ہوں ہر ایک عقلمند انسان