انوارالعلوم (جلد 5) — Page 234
انوار العلوم جلد ۵ ۲۳۴ ترک موالات اور احکام اسلام オリード بھی زیادہ الٹ فتویٰ کوئی ہو سکتا ہے قرآن کریم تو کسے کہ اہل کتاب کے مقابلہ میں مشرکوں سے کیوں دوستی کرتے ہو ؟ اور فتویٰ یہ دیا جائے کہ اہل کتاب سے تو ترک موالات کرو اور غیر اہل کتاب سے دوستی ۔ یہ تو ایسا فتوی ہے جسے اس آیت کے الفاظ نہ صرف رد کرتے ہیں بلکہ اس کے مخالف تعلیم دیتے ہیں۔ اس آیت میں ظاہری دوستی مراد اصل بات یہی ہے کہ اس آیت میں ظاہری دوستی پر زور نہیں دیا گیا بلکہ یہود جو مسلمانوں کے مقابلہ میں نہیں بلکہ مذی جنبه داری مراد ہے مشرکوں کے مذہبی جنب داری کرتے تھے اس پر ان سے کو ڈانٹا ہے کہ وہ ایسے خلاف عقل طریق کو کس طرح اختیار کرتے ہیں اور بتایا ہے کہ یہ حرکت اسی امر کا نتیجہ ہے کہ انہوں نے پیچھے دین کا انکار کر کے اپنی فطرت کو مسخ کر لیا ہے ۔ اب میں ان آٹھوں آیتوں مفتیوں کی پیش کردہ آیات کے علاوی دیگر ایسی آیات یا ایا ای کی صحیح تفسیر بیان کرنے کے بعد جو ترک موالات کے حامی پیش کرتے ہیں بعض اور آیات بھی لکھ دیتا ہوں جن کو اسی مسئلہ کی تائید میں پیش کیا جا سکتا ہے تاکہ اس مسئلہ پر نظر ڈالتے ہوئے وہ بھی نظر کے نیچے رہیں ۔ پہلی آیت ایک آیت تو یہ ہے ۔ ایک آیت تو یہ ہے - يَا يُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَتَّخِذُوا بِطَانَةٌ مِنْ دُونِكُمْ لَا يَأْلُونَكُمْ خَبَالاً وَدُوا مَا عَنِتُمْ (ال عمران : ۱۱۹) لینے سے مومنو مسلمانوں کے سوا کسی کو اپنا را زردان دوست نہ بناؤ یہ لوگ تم کو نقصان پہنچانے میں کوئی کوتاہی نہیں کرتے اور چاہتے ہیں کہ تم دُکھ میں پڑ جاؤ " اس آیت کا مضمون بھی پہلی آیات سے ملتا ہے اور ور ہیں کرتم میں یہی مطلب ہے کہ جن قوموں سے جنگ ہے ان کے افراد سے گہری دوستیاں نہ کرو کیونکہ یہ بات نقصان رساں ہوتی ہے اور اگر یہ شرط ہوتی ہے اور اگر یہ شرط نہ لگائی جائے تو سورہ ممتحنہ کی آیت لَا يَنْكُمُ اللهُ عَنِ الَّذِينَ لَمْ يُقَاتِلُوكُمْ فِي الدِّينِ وَلَمْ يُخْرِجُوكُمْ مِّنْ دِيَارِكُمْ أَنْ تَبَرُّوهُمْ وَتُقْسِطُوا البيهِمْ ، إِنَّ اللهَ يُحِبُّ الْمُقْسِطِينَ ) ( المَمتحنہ : 9) جسے خود منتقیان ترک موالات نے پیش کیا ه ہے بے مطلب رہ جاتی ہے ۔ دوسری آیت دوسری آیت سورہ توبہ کی ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ آیا يُّهَا الَّذِينَ امَنُوا لَا تَتَّخِذُوا آبَاءَكُمْ وَإِخْوَانكُمْ أَوْلِيَاءَ إِنِ اسْتَحَبُّوا الكُفْرَ عَلَى الْإِيمَانِ، وَمَنْ يَتَوَلَّهُمْ مِنْكُمْ فَأُولَئِكَ هُمُ الظَّلِمُونَ ، والتوبه : ٢٣) یعنی