انوارالعلوم (جلد 5) — Page 230
انوار العلوم جلد ۔ ۲۳۰ ترک موالات اور احکام اسلام میں ان کو بڑے بڑے عہدے دیئے ہیں اور عباسیوں نے تو وزیر تک بنائے ہیں۔ اس پر سائل کی تسکی ہو گئی اور مدرس صاحب کا خوف دور ہو گیا ۔ گو سید رشید رضا صاحب کی نظر ان معنوں تک نہیں پہنچی جو میں نے لکھے ہیں مگر بہر حال یہ واقعہ جو انہوں نے بیان کیا ہے ترک موالات کے حامیوں کے لئے ایک سبق ہے ۔ تعبیری قسم کی آیت آٹھویں آیت جو ترک موالات کے حامیوں نے پیش کی ہے یہ ہے ۔ تَرَى كَثِيرًا مِنْهُمْ يَتَوَلَّوْنَ الَّذِينَ كَفَرُوا لَبِئْسَ مَا قَدَّمَتْ لَهُمْ أَنْفُسُهُمْ أَنْ سَخِطَ اللهُ عَلَيْهِمْ وَفِي الْعَذَابِ هُمْ خَلِدُونَ ، وَلَوْ كَانُوا يُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَالنَّبِيِّ وَمَا أُنْزِلَ إِلَيْهِ مَا اتَّخَذُوهُمْ أَوْلِيَاءَ وَلَكِنَّ كَثِيرًا مِنْهُمْ فَسِقُونَ (المائدہ : ۲۰۸۱) ان میں سے بہت تم ایسے دیکھو گے جو رفیق بنتے ہیں کافروں کے۔ بے شک بُرا ہے وہ جو آ آگے بھیجا ہے اہے انہوں نے خود اپنے لئے کہ اللہ کا غضب ہے ان پر اور وہ ہمیشہ عذاب میں ہیں اور اگر یقین رکھتے وہ اللہ پر اور نبی پر اور جو نبی کی طرف اتارا گیا تو کافروں کو رفیق نہ بناتے لیکن ان میں بہت سے نافرمان ہیں " یہ آیت یہود کے متعلق ہے معلوم ہوتا ہے کہ راقمان فتوی نے اس آیت کو قرآن کریم سے نکال کر نہیں پڑھا بلکہ کلید میں سے ہی دیکھ کر اس کو درج کر دیا ہے یاکسی نا واقف حافظ سے تولی کی آیات دریافت کر کے لکھ دی ہیں کیونکہ یہ آیت یہود کی نسبت ہے مسلمانوں کی نسبت نہیں اللہ تعالیٰ یہود کو مخاطب کر کے فرماتا ہے کہ یہود کفار سے دوستی کرتے ہیں اگر وہ مسلمان ہوتے تو الیسا نہ کرتے۔ اس آیت سے پہلی آیات میں یہود کا ہی ذکر ہے چنانچہ اس آیت سے پہلی دو آیتیں یہ ہیں ۔ (1) لُعِنَ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْ بَنِي إِسْرَاءِيلَ عَلَى لِسَانِ دَاوُدَ وَعِيسَى ابْن مَرْيَمَ ذَلِكَ بِمَا عَصَوا وَكَانُوا يَعْتَدُونَ ) (٢) كَانُوا لَا يَتَنَاهُونَ عَنْ تُنكَرٍ فَعَلُوهُ لَبِئْسَ مَا كَانُوا يَفْعَلُونَ ) (المائدة : ۷۹ - ۸۰ ، یعنی بنی اسرائیل میں سے کافر ر لعنت کئے گئے ہیں داؤد کی زبان سے بھی اور عیسی بن مریم کی زبان سے بھی یہ ان کی نافرمانی اور نا حد سے نکل جانے کا نتیجہ تھا یہ لوگ ان بدیوں سے جن کے مرتکب تھے باز نہیں آتے تھے ضرور بہت برا تھا جو وہ کرتے تھے " اس سے آگے پھر وہ آیت ہے جسے مفتیوں نے لکھا ہے پس اس آیت کے مخاطب تو یہود ہیں نہ کہ مسلمان ۔ انکے