انوارالعلوم (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 222 of 653

انوارالعلوم (جلد 5) — Page 222

انوار العلوم جلد ۵ ۲۲۲ ترک موالات اور احکام اسلام اگر کفار کو کچھ حاصل ہوتا ہے۔ یہ ان سے کہتے ہیں کہ کیا ہم تم پر غالب نہ تھے اور کیا ہم نے تم کو بچایا نہیں مومنوں سے ؟ پس اللہ تعالیٰ تمہارے درمیان قیامت کو فیصلہ کرے گا اور اللہ تعالیٰ کبھی مسلمانوں پر کافروں کو غلبہ نہیں دے گا۔" اس آیت سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ پہلی آیت جو کھی گئی اس میں ان منافقوں کو جو مدینہ میں رہتے تھے اور اسلامی حکومت کے افراد تھے ان کا فروں سے جو اسلام کے مٹانے کے لئے مسلمانوں سے ہر سیر جنگ تھے دوستی رکھنے سے منع کیا گیا ہے اور ان کی مدد کرنے اور ان کو اکسانے سے باز رکھا گیا ہے نہ کہ تمام دنیا جہاں کے کافروں سے اور انگریز ہرگنہ اسلام کی وجہ سے مسلمانوں سے نہیں لڑ رہے بلکہ جو لڑائی وہ کر چکے ہیں وہ بھی دنیوی وجوہ پر تھی ۔ تعییری ری آیت تیسری آیت جو ترک موالات کی تائید میں پیش کی جاتی ہے یہ ہے ۔ کیا سیکھا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَتَّخِذُوا الْكَفِرِينَ أَوْلِيَاءَ مِنْ دُونِ الْمُؤْمِنِينَ اتُرِيدُونَ أَنْ تَجْعَلُو اللَّهِ عَلَيْكُمْ سُلْطَنَا مُبِيناه (النساء : ۱۴۵) اس کا ترجمہ ترک موالات کے فتویٰ میں یوں لکھا گیا ہے ۔ " اسے ایمان والو مومنوں کے سوا کافروں کو اپنا یارو مدد گار مت بناؤ کیا تم چاہتے ہو کہ اپنے اوپر اللہ کا الزام صریح لو" اس آیت میں بھی پہلی آیت کی طرح یہ نہیں بتایا گیا کر کن کفار سے ترک موالات کرو اور کنسے نہیں اور اس کی تشریح دوسری آیات ہی سے کرتی پڑے گی اور جیسا کہ میں بتا چکا ہوں کہ ان آیات کو مد نظر رکھتے ہوئے انگریزوں سے ترک موالات کا حکم کسی صورت میں نہیں نکلتا ۔ چوتھی آیت اب اب میں چوتھی آیت کو لیتا ہوں جو یہ ہے۔ يَا يُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَتَّخِذُوا عَدُوِّي وَعَدُوَّكُمْ أَوْلِيَاءَ تُلْقُونَ إِلَيْهِمُ بِالْمَوَدَّةِ وَقَدْ كَفَرُوا بِمَا جَاءَكُمْ مِنَ الْحَقِّ (الممتحنہ : ٢) یعنی " اے ایمان والو میرے دشمن اور اپنے دشمن کو رفیق مت بناؤ پیغام بھیجتے ہو تم ان کی طرف دوستی کا حالانکہ وہ منکر ہوئے ہیں اس سچائی سے جو تمہارے پاس بھیجی ہے" (ترجمہ منقول از فتویٰ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنے اور مخاطبوں کے دشمنوں کو دوست ومددگار بنانے سے منع فرمایا ہے لیکن یہ کہ دشمن سے کیا مراد ہے ؟ اس کی تشریح نہیں فرمائی دشمنی عقائد کے اختلاف کا نام بھی ہو سکتا ہے اور اس سے مراد وہ کینہ بھی ہوسکتا ہے جس کے اثر سے انسان اپنے مخالف کو بالکل تباہ و برباد کرنا چاہتا ہے پس اس آیت اس آیت میں "عدد" کے جو معنے ہیں وہ معلوم کرنے ہمارے لئے ضروری ہیں اور اس لئے ہمیں دور جانے کی ضرورت نہیں اسی آیت کے اگلے حصہ میں اس دشمنی کی اللہ تعالی