انوارالعلوم (جلد 5) — Page 220
انوار العلوم جلد ۵ ۲۲۰ ترک موالات اور احکام اسلام اس آیت کے اصل معنی اس آیت کے اصل معنے ہی ہیں کہ خدا تم کو حربی کفار سے دوستی کا سے رکھنے کی اجازت نہیں دیتا ہاں اس کے مقابل میں فرماتا ہے کہ میں تم ان سے ہر طرح بچتے رہ ہو اور ان کے مقابلہ کا سامان تیار کرو۔ اشقی کے معنے حفاظت کا سامان جمع کرنے کے بھی ہیں اور اگلا حصہ و يُحذِّرُكُمُ اللهُ نَفْسَهُ ان ہی معنوں کی تصدیق کرتا ہے کیونکہ اگر آیت کے یعنی ہیں کہ اسے لوگو تم کفار سے دوستی نہ کرو ہاں زبر دستی کریں تو ان کے ضرر کے ڈر سے ان ہی کی سی بات کہ دو اور اللہ تعالیٰ تم کو اپنی ذات سے ڈراتا ہے تو اس کا ایک حصہ دوسرے کا مخالف ہو جاتا ہے جب دین کے معاملہ ین کے معاملہ میں بھی ہندوؤں سے ڈرنے کا وہ حکم دیتا ہے تو پھر اپنے ڈر پر زور دینے کا کیا مطلب ہوا ؟ لیس اصل مطلب یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ مؤمنوں سے فرماتا ہے کہ اسے مومنو! حربی کفار سے دوستی نہ کرو بلکہ اس کے مقابلہ میں ان کے شر سے بچنے کے لئے سامان حفاظت جمع کرو اور ان سے نہ ڈرو ، اسے نہ ڈرو بلکہ اللہ تعالیٰ سے ڈرو کیونکہ ڈرنے کے قابل اسی کی ذات ہے اور اگر ایسا نہ کرو تو آخر ایک دن اسی کے حضور پیش ہونا ہے اپنے کئے کی سزا پاؤ گے ۔ سورہ نمل کی اس آیت کی موجودگی میں کے جس میں جبر کے ماتحت کلمہ کفر کنے والے کو بھی گنہگار قرار دیا ہے اور خدا کے راستہ میں ہجرت کرنے اور اس کے دین کے لئے تکالیف اُٹھانے کے بعد اس کے معاف کرنے کی امید دلائی ہے۔ ان معنوں کے سوا کوئی اور معنی اس آیت کے کئے ہی نہیں جا سکتے ۔ اس ضمنی سوال کا جواب دینے کے بعد میں پھر اصل مضمون کی طرف لوٹتا ہوں ۔ گے سے دوسری آیت ترک موالات کی تائید میں دوسری آیت جس میں کفار کی دستی اور موالات روکا گیا ہے یہ پیش کی جاتی ہے بَشِّرِ الْمُنْفِقِينَ بِأَنَّ لَهُمْ عَذَابًا اليماهُ بِالَّذِينَ يَتَّخِذُونَ الْكَفِرِينَ أَوْلِيَاءَ مِنْ دُونِ الْمُؤْمِنِينَ ، أَيَبْتَغُونَ عِنْدَهُمُ الْعِزَّةَ فَإِنَّ الْعِزَّةَ لِلَّهِ جَمِيعًا (النساء:۱۳۹-۱۴۰) اس کا ترجمہ مولوی محمود الحسن صاحب نے اپنے فتویٰ میں یوں کیا ہے " ان منافقین کو درد ناک عذاب کی خوشخبری سنادو - مؤمنین کے سوا کافروں کو اپنا دوست بناتے ہیں کیا وہ ان کے پاس عزت تلاش کرتے ہیں حالانکہ تمام تر عزت خدا کے لئے ہے " اس تر ترجمہ کے الفاظ پر غور کرو۔ یہاں کہاں لکھا ہے کہ نصاری کو دوست نہ بناؤ یا ان سے ترک موالات کرو یہاں تو تمام کفار کے متعلق بیان کیا گیا ہے کہ ان کو دوست نہ بناؤ اور پھر کوئی شرط نہیں بتائی کہ کس کو دوست بناؤ اور کس کو نہ بناؤ اس کے جواب میں یہی کہا جائے گا کہ بے شک اس جگہ سب کفار سے قطع تعلق کا حکم ہے اور کوئی شرط نہیں کہ فلاں کو دوست بناؤ اور فلاں کو نہ بناؤ۔ لیکن