انوارالعلوم (جلد 5) — Page 218
انوار العلوم جلد ۵ ۲۱۸ ترک موالات اور احکام اسلام ایک ضمنی سوال اور اس کا جواب اگر کہا جاوے کہ قرآن کریم کے دوسرے مقامات سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر ایک کافر سے ترک موالات کا حکم نہیں بلکہ خاص کفار سے ہے ان آیات کو اس آیت سے ملا کر ہم ایسا فتوی دیتے ہیں ۔ ہتے ہیں۔ تو یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ انگریزوں کے متعلق فیصلہ دیتے وقت بھی نہیں انہیں آیات کو مد نظر رکھنا پڑے گا۔ یہ درست نہ ہو گا کہ دوسرے لوگوں کے متعلق فیصلہ کرتے وقت ان آیات کو مد نظر رکھا جائے اور انگریزوں کے متعلق فتویٰ دیتے وقت ان کو مد نظر نہ رکھا جاوے ۔ اور یہ میں پہلے بتا آیا ہوں کہ جو شرائط دوسری آیات میں ترک موالات کے لئے بتائی گئی ہیں وہ جس طرح اس وقت کے ہندووں میں نہیں پائی جاتیں اسی طرح انگریزوں میں بھی نہیں پائی جاتیں۔ یہ حکم حربی کفار کے متعلق ہے علاوہ ازیں یہ بھی دیکھنا چاہئے کہ خود اس آیت کے سیاقی و سباق سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ حکم ان حربی کفار کے متعلق ہے جن سے دین اسلام کے متعلق جنگ ہو رہی ہو۔ چنانچہ اس سے چند آیات پہلے اللہ تعالیٰ نے جنگ بدر کا ذکر فرمایا ہے اور جنگ بدر کے ساتھ ہی بلکہ اس سے بھی کچھ عرصہ پہلے سے کفار کے ساتھ جنگ شروع ہو گئی تھی اور اسی طرح جنگ بدر کے بعد سیود کے بعض سرداروں سے بھی فساد پیدا ہو گیا تھا پس اللہ تعالیٰ اس آیت میں ان ہی لوگوں سے جو بر سر جنگ ہوں تعلق رکھنے سے منع فرماتا ہے اور ان سے دوستی رکھنے یا ان کو فوائد مسلمانان کے خلاف مدد دینے یا ان سے مدد لینے سے منع فرماتا ہے بلکہ خود اس آیت میں بھی یہی مضمون ہے۔ کیونکہ اسی آیت کے اس حصہ میں جسے مفتی صاحبان نے فتویٰ میں درج نہیں کیا ۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے إِلَّا أَنْ تَتَّقُوا مِنْهُمْ تُقدَّ وَيُحَذِّرُكُمُ اللهُ نَفْسَهُ وَ إِلَى اللهِ الْمَصِيرُ - (ال عمران: (۲۹) یعنی کفار سے فار سے دوستی نہ کرو سوائے اس کے بچھ ان سے اچھی طرح اور اللہ تعالیٰ تم کو اپنی ذات سے ڈراتا ہے اور اسی کی طرف تمہارا لوٹنا ہے ۔ إِلَّا أَنْ تَتَّقُوا مِنْهُمْ تُقسة کے وہ معنی جو عام طور پر کئے جاتے ہیں اس آیت کے عام طور پر یہ معنے کئے جاتے ہیں کہ جس وقت جنگ میں یا جب کفار غالب ہوں کسی سے جبراً کوئی کلمہ گھر کا کہلوایا جاوے تو وہ ایسا کلمہ کہ دے تو اس کو اجازت ہے چنانچہ سعید بن الجبیر کا قول ہے لَيْسَ فِي الْآمَانِ التَّقِيَّةُ إِنَّمَا التَّقِيَّةُ فِي الْحَرْب یعنی تقیبہ امان میں نہیں ہوتا بلکہ لڑائی میں