انوارالعلوم (جلد 5) — Page 215
انوار العلوم جلد ۵ ۲۱۵ ترک موالات اور احکام اسلام ہے تو اس کا اختیار ہو گا کہ ایسے شخص کو گرفتار کرے اور اس کے اس فعل کو کوئی شخص مذہبی دست اندازی نہیں کہہ سکتا ۔ مذہبی دست اندازی صرف ایسے ہی افعال میں تصرف کرنے کو کہ سکتے ہیں جو صرف اس شخص کی ذات سے تعلق رکھتے ہوں جس نے وہ فعل کرنا ہے اور حکومت کا اس کے اندر دخل نہ ہو یعنی اس فعل کی سزا یا جزاء کو خدا تعالیٰ نے حکومت کے ذمہ نہ رکھا ہو اسی وجہ سے گو مدت ہائے دراز سے ہندوستان میں انگریز زانی کو رحم نہیں کرتے ۔ چور کے ہاتھ نہیں کا سنتے مگر مسلمان اس کے خلاف کبھی شور نہیں جاتے کہ یہ مذہبی دست اندازی ہے اور نہ کبھی انہوں نے اس کے خلاف ترک موالات کی تحریک کی کیونکہ یہ کام انسان کی اپنی ذات سے تعلق نہیں رکھتے بلکہ دوسروں سے تعلق رکھتے ہیں اور کسی شخص کے مذہبی خیالات کے مطابق دوسروں کو مجبور نہیں کیا جا سکتا۔ ہیں جب انگریزوں کے نزدیک خلافت کوئی حقیقت ہی نہیں رکھتی کیونکہ وہ مسلم ہی نہیں ہیں اور خصوصاً جبکہ انہوں نے اپنی خلافت سے بھی دنیوی شان و شوکت علیحدہ کر لی ہے تو ان سے یہ امید رکھنا کہ اگر ہم لوگ خلافت کے لئے جد و جہد کریں جس کے دوسروں لفظوں میں یہ معنے ہوں گے کہ ہم ان کے زیر اقتدار ممالک میں سے جن پر انہوں نے جائز طور پر یا ناجائز طور پہ پر قبضہ کر لیا تھا نکال دیں تو وہ خاموش رہیں کس طرح درست ہو سکتا ہے یہ کیونکر ہو سکتا ہے کہ ہم کوئی ایسا فعل کریں جو ان کے دنیوی مفاد کے لئے مضر ہو تو وہ صرف اس لئے کہ وہ ہمارا مذہبی مسئلہ ہے خاموش بیٹھے رہیں گے اس طرح تو ان کی کیا کوئی حکومت بھی نہیں چل سکتی۔ پس بعض مسلمانوں کو جو جلا وطن کیا گیا تھا تو اس کی یہ وجہ نہ تھی کہ وہ لوگ اسلام پر کیوں ایمان لائے تھے بلکہ یہ وجہ تھی کہ ان لوگوں کے افعال گورنمنٹ برطانیہ کے نزدیک اس کے سیاسی فوائد کے لئے مضر تھے ورنہ کیا وجہ ہے کہ اور کروڑوں مسلمان اس کی حکومت کے نیچے لیتے ہیں وہ ان کو جلا وطن نہیں کرتی یا قید نہیں کرتی ؟ خلاصہ کلام یہ ہے کہ وہی آیت جس سے ترک موالات کے حامی انگریزوں سے ترک موالات کا فتویٰ اور ہندوؤں سے موالات کا حکم نکالتے ہیں ان کے دعوی کو غلط ثابت کرتی ہے اور دوسری آیات اور دونوں سے مالا کا حکم جاتے ہیں ان کے دعوی کو خلط ثابت ہوتی ہے ولی سے ترک موالات کا اسی مضمون کی تائید کرتی ہیں ۔ ، اس جنگ میں لڑنیوالے کون تھے اور علاوہ ازیں یہ بھی سوچنا چاہئے کہ جس جنگ کا انگریزوں پر الزام لگایا جاتا ہے اس میں لڑنے اس وقت مفتی کیوں خاموش رہنے والے کون تھے ؟ خود ہندو اور سکھ اور مسلمان ہی تھے جنہوں نے جا کر ترکوں کو مارا ۔ اگر یہ جنگ فی الواقع مذہبی جنگ تھی تو مسلمان ترکوں کے مخالف