انوارالعلوم (جلد 5) — Page 191
انوار العلوم جلد ۔ ۱۹۱ لوح المدى ہو Po پاس ہو مال تو دو اس سے زکوٰۃ و صدقہ فکر سکیں رہے تم کو غم ایام نہ محسن اس کا نہیں کھلتا تمھیں یہ یاد رہے دوش مسلم پر اگر چادر احرام نہ ہو عادت ذکر بھی ڈالو کہ یہ ممکن ہی نہیں دل میں ہو عشق صنم لب پہ مگر نام نہ ہوتے عقل کو دین پر حاکم نہ بناؤ ہر گنہ یہ تو خود اندھی ہے گر نیر الہام نہ ہوتی جو صداقت بھی ہو تم شوق سے مانو اس کو علم کے نام سے تم تابع اوھام نہ ہوں دشمنی ہو نہ محبان محمد سے تمہیں جو معاند ہیں تمہیں ان سے کوئی کام نہ ہو امن کے ساتھ رہو فتنوں میں حصہ مت کو باعث فکر و پریشانی حکام نہ ہوتے اپنی اس عمر کو اک نعمتِ عظمی سمجھو بعد میں تاکہ تمہیں شکوہ ایام نہ ہو حسن ہر رنگ میں اچھا ہے مگر خیال رہے دانہ سمجھے ہو جسے تم وہ کہیں دام نہ ہوتے تم مدیر ہو کہ جرنیل ہو یا عالم ہو ہم نہ خوش ہوں گے کبھی تم میں گر اسلام نہ ہوتے کم کرام سیلف رسپیکٹ کا بھی خیال رکھو تم بے شک یہ نہ ہو پر کہ کسی شخص کا اکرام نہ ہو عمر ہو ئیسر ہو تنگی ہو کہ آسائش ہو کچھ بھی ہو بند مگر دعوتِ اسلام نہ ہوتے تم نے دنیا بھی جو کی فتح تو کچھ بھی نہ کیا نفس وحشی و جفا کیش اگر رام نہ ہو من و احسان سے اعمال کو کرنا نہ خراب رشته وصل کہیں قطع سر بام نہ ہوتے بھولیو مت کہ نزاکت ہے نصیب نسواں مرد وہ ہے جو جفاکش ہو گل اندام نہ ہوتے شکل سے دیکھ کے گرنا نہ نگش کی مانند دیکھ لینا کہ کہیں درد نہ جام نہ ہوتے یاد رکھنا کہ کبھی بھی نہیں پاتا عزت یار کی راہ میں جب تک کوئی بدنام نہ ہوتے کام مشکل ہے بہت منزلِ مقصود ہے دُور اے مرے اہلِ وفائت کبھی کام نہ ہو گامزن ہوگئے رہ صدق و صفا پر گر تم کوئی مشکل نہ رہے گی جو سر انجام نہ ہو حشر کے روز نہ کرنا ہمیں رسوا و خراب پیار و آموخته درس وفا خام نہ ہوتے ہم تو جس طرح بنے کام کئے جاتے ہیں آپ کے وقت میں یہ سلسلہ بدنام نہ ہو میری تو حق میں تمہارے یہ دُعا ہے پیار و سر پہ اللہ کا سایہ رہے ناکام نہ ہو ظلمت رنج و غم و درد سے محفوظ رہو مهر انوار درخشندہ رہے شام نہ ہو رالحکم بر اکتوبر نه)