انوارالعلوم (جلد 5) — Page 180
انوار العلوم جلد ۵ ۱۸۰ معاہدہ ترکیہ اور مسلمانوں کا آئندہ رویہ طرف سے ہوئی ہے۔ اور پھر یہ بھی کہ اتحادیوں نے ترکوں سے اس لئے جنگ کی تھی کہ وہ ان کو جبراً مسیحی بنالیں جہاد ہندوستان کے مسلمانوں کے لئے جو برطانیہ کی حکومت کے نیچے رہتے ہیں جائز نہیں ہو سکتا۔ تیسری تجویز یہ ہے کہ گورنمنٹ سے قطع تعلق کیا جارے اس تجویز کے متعلق بھی میری یہ رائے ہے کہ قطع تعلق بھی ایک قسم مقابلہ کی ہے ۔ اور اس پالیسی پر عمل کر کے بھی ہندوستان میں امن قائم نہیں رکھ جا سکتا ۔ ضرور ہے کہ جو لوگ اپنے کاموں سے علیحدہ ہوں آہستہ آہستہ ان کی ضروریات دنیاوی ان کو تنگ کریں اور وہ مجبور ہو کرنا جائز ذرائع اور جبر سے اپنے گزارے کا سامان پیدا کریں۔ پھر بیشتر اس کے کہ اس تجویز پر حل کیا جا سے یہ بھی سوچنا چاہئے کہ اس تجویز کی عرض کیا ہے۔ میرے نزدیک اس کی ایک ہی غرض ہو سکتی ہے کہ گورنمنٹ برطانیہ پر اس ذریعہ سے دباؤ ڈالا جاوے اور اس غلطی کی اصلاح کروائی جاوے جو ترکوں کے معاہدہ صلح میں ہوئی ہے سو اول تو اگر اس قطع تعلق کا کوئی اثر ہو بھی تو وہ صرف ہندوستان پر ہوگا اور ہو گا بھی سالہا سال کے بعد۔ کیونکہ اگر یہ مان بھی لیا جاوے کہ سب مسلمان اس بات پر آمادہ ہو جا دیں گے تو بھی اس امر سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ ان کو اس کام کے لئے آمادہ کرنے کے لئے سالہا سال کی جد و جہد اور تلقین کی ضرورت ہوگی ۔ اور اس وقت تک کہ یہ تجویز عملی جامہ پہنے گی معاہدہ ترکیہ ایک ثابت شدہ حقیقت ہو چکا ہوگا ۔ اور اس وقت اگر گورنمنٹ برطانیہ کی مرضی بھی ہوگی تب بھی وہ فرانس اور یونان اور آرمینیا کو اپنے اپنے حصہ سے علیحدہ نہیں کر سکے گی۔ دوم اس بات کو بھی مد نظر رکھنا چاہئے کہ اگر سب مسلمان اس تجویز پر عمل کرنے لگیں تب بھی وہ گورنمنٹ پر کوئی دباؤ نہیں ڈال سکتے کیونکہ اس ملک کی آبادی کی صرف چوتھا حصہ مسلمان ہے ہم ہندو ہیں اور تقریباً چالیس لاکھ کھ مسیحی ہیں۔ پس اگر گورنمنٹ کو اس کے خطاب واپس کر دیئے جاویں تو اس سے اس کا کوئی نقصان نہیں۔ اور اگر اس کی ملازمت سے علیحدگی کی جاوے تو ہندوستان کی پہ آبادی ان کی جگہیں پھر کرنے کے لئے تیار ہے ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ بعض ہند و سر بر آوردہ اس وقت مسلمانوں کے ساتھ شریک ہونے کے لئے آمادہ ہیں ۔ لیکن اس تجویز کی مخالفت ہندوؤں میں بہت زیادہ ہے اور یقیناً پانچ فیصدی ہندو بھی مسلمانوں کا ساتھ نہ دیں گے ۔ اگر مسلمان وکلاء اپنا کام چھوڑ دیں گے تو خود مسلمان اپنی داد رسی کے لئے ہندو وکلاء کی خدمات کو حاصل کریں گے اور وہ شوق سے ان کے مقدمات لیں گے اور اگر مسلمان حج استعفاء اور دے دیں گے تو ہند و امید وار فوراً ان کی جگہ لینے کے لئے آگے بڑھیں گے ۔ اگر فوجی مسلمان استعفاء دے دیں گے تو علاوہ اس کے کہ وہ فوجی قواعد کی خلاف ورزی کر کے سزا پادیں گے ان کا مستعفی ہو