انوارالعلوم (جلد 5) — Page 178
معاہدہ ترکیہ اور مسلمانوں کا آئندہ رویہ ۱۷۸ انوار العلوم جلده جہاں کی آبادی قریب قریب ساری مسلمان ہے حالانکہ یہ بات ثابت ہے کہ آرمینین سمیوں نے نہایت بے دردی سے مسلمانوں کو قتل کیا ہے اور خود وزیر انگلستان اس بات کا انکار نہیں کر سکے کہ آرمینین مسیحیوں نے بھی مسلمانوں پر سخت سے سخت مظالم کئے ہیں۔ یہیں اگر ترکوں کو اس جرم میں اس علاقہ کی حکومت سے بے دخل کیا جاتا ہے کہ وہ کر دوں کو آرمینین مسیحیوں پر ظلم کرنے سے کیوں نہیں روک سکے۔ تو آرمینین مسیحیوں کو جو خود مسلمانوں کو قتل کرنے کے جرم کے مرتکب ہیں مسلمانوں پر کیوں حکومت دے دی گئی ہے اور اگر کوئی ایسے قواعد بنا دیئے گئے ہیں کہ جن کے ماتحت آرمین مسیحی مسلمانوں پر ظلم نہیں کر سکیں گے تو کیوں ان ہی قواعد کے ماتحت آرمینیا کو ترکوں کے ماتحت نہیں رکھا گیا تا مسلمان مسیحیوں پر حکم نہ کر سکیں ۔ اسی طرح شمرنا کو یونان کے حوالے کرنا بھی خلاف انصاف ہے کیونکہ کسی ملک کے صرف ایک شہر میں کسی قوم کی کثرت آبادی اسے اس شہر کی حکومت کا حق دار نہیں بنادیتی اور یہ اصول کبھی بھی سیاست میں تسلیم نہیں کیا گیا اور اس کا نتیجہ سوائے فساد کے کچھ نہیں نکلے گا اور یقیناً چند سال بعد یونانی اس علاقہ میں فتنه اندازی کرکے اور علاقہ بڑھانے کی فکر کریں گے۔ تھریں جو ترکوں سے لے کر یونان کو دیا گیا ہے اس کا سبب بھی معلوم نہیں ہوتا ۔ خود وزیر اعظم مسٹر لانڈ جارج اس بات کا اقرار کر چکے ہیں کہ وہاں کی آبادی کا کثیر حصہ ترک ہے پھر اس ملک کو یونان کے سپرد کر دینا کسی طرح جائز ہو سکتا ہے اور اگر مسٹر لائڈ جارج کے بعد کے بیان کو بھی کہ وہاں کی اکثر آبادی کے بعد کے بیان کو ھی کہ وہاں غیر ترک ہے مان لیا جاوے تو بھی اس میں کوئی شک نہیں کہ اس علاقہ کا نہایت کثیر حصہ مسلمان ہے ہیں اگر اس وجہ سے کہ وہاں کی اکثر آبادی ترک نہیں اس علاقہ کو ترکوں کے سپرد نہیں کیا جا سکتا تھا تو وجہ سے کہ کی اس علاقہ کے سپرد نہیں کیا جا یونان کو تو کسی طرح اس علاقہ پر حق حکومت نہ تھا ۔ اس صورت میں یہاں آزاد حکومت قائم کر دی جاتی یونانیوں کو اس علاقہ کے سپرد کر دینے کا یہ نتیجہ نکلے گا کہ وہ حسب عادت تھوڑے ہی عرصہ میں خفیہ اور ظاہر تدابیر سے وہ یر سے وہاں کے لوگوں کو یا سیحی ہونے پر مجبور کریں گے یا ان پر سخت ظلم کر کے ان کو ان علاقوں یا سے نکال دیں گے۔ غرض میرے نزدیک اس معاہدہ کی کئی شرائط میں حقوق کا اتلاف ہوا ہے اس لئے جسقدر جلد یورپ اس میں تبدیلی کرے اسی قدر یہ بات اس کی شہرت اور اس کے اچھے نام کے قیام کا موجب ہو گی لیکن سوال ہے کہ اگر اتحادی حکومتیں ان شرائط کو بدلنے سے انکار کریں تو مسلمانوں کو کیا کرنا چاہئے اور میرے نزدیک یہی اہم سوال ہے کیونکہ جہاں تک میں سمجھتا ہوں اتحادی ان شرائط کو نرم نہیں کریں گے ۔ ATHERAS عله SAMARINA مله