انوارالعلوم (جلد 5) — Page 167
انوار العلوم جلد ۵ 144 ایک غلط بیانی کی تمدید IS NOT EMPLOYED IN ANY CAPACITY AT KOHAT۔" اب اس تحقیقات کے بعد ہم یہ نتیجہ نکالنے پر مجبور ہیں کہ نہ صرف یہ کہ یہ صاحب احمدی ہی نہیں ہیں بلکہ ان صاحب کا وجود ہی خیالی ہے اور کسی شقی القلب انسان نے تمسخر کے طور پر جھوٹا خطہ بنا کر آفتاب کے ایڈیٹر کے نام ارسال کر دیا ہے ۔ مندرجہ بالا تین دلائل کے علاوہ چوتھی دلیل اس خط کے جھوٹا ہونے کی یہ ہے کہ یہ صاحب تحریر فرماتے ہیں کہ وہ میرے مواعیظ اور خطبات کو مدت تک پڑھتے رہے ہیں اور میرے خطبات صرف اخبار الفضل کا میں شائع ہوتے ہیں جس کے خریداروں میں اس نام کا کوئی شخص نہیں ہے اور ہمارے اخبار ایجنسیوں کی معرفت فروخت نہیں ہوتے کہ کہا جاسکے کہ یہ صاحب کسی ایجنسی سے اخبار خرید کر پڑھ لیا کرتے تھے۔ میں پانچویں دلیل ان صاحب کے جھوٹا ہونے کی یہ ہے کہ انہوں نے یہ لکھا ہے کہ اکتوبر 1919 انہوں نے ایک سو پچاسی روپے سات آنے کی رقم اشاعت اسلام کے لئے بھیجی تھی۔ ہمارے ہاں با قاعدہ دفاتر ہیں جہاں ایک ایک پیسہ کی رقم درج ہوتی ہے۔ جو منی آرڈر وغیرہ براہ راست محاسب کے نام آتے ہیں وہ تو ان کے حسابات میں درج ہوتے ہی ہیں اور جو میرے نام آئیں وہ بھی خواہ میرے ذاتی ہوں یا چندہ کے دفتر محاسب میں جاتے ہیں اور وہاں سے ایک رجسٹر پر درج ہو کر پھر میرے پاس بغرض دستخط آتے ہیں اور میرے دستخط کر دینے پر وہی دفتر ان کو وصول کرتا ہے اور اگر کوئی میرا پر وہی ان ہے ذاتی روپیہ ہو تو مجھے ادا کر دیتا ہے ورنہ وہیں دفتر کے حسابات میں اس کو جمع کر لیتا ہے ۔ ان تمام رجسٹرات ہو تو میں اس نام کے کسی شخص کی کوئی رقم درج نہیں ہے بلکہ چھوٹے کو اس کے گھر تک پہنچانے کے لئے ڈاک خانہ سے بھی دریافت کیا گیا کہ کیا اس نام کے کسی شخص کی کوئی رقم اس ماہ میں آئی ہے تو انہوں نے انکار کیا۔ ان تمام شہادات کے بعد میں امید کرتا ہوں کہ پبلک اس خط کے لکھنے والے کی شرافت اور انسات کا اچھی طرح اندازہ کر سکے گی ۔ اور اسے معلوم ہو جاوے گا کہ بعض لوگ تعصب میں اندھے ہو کر کس قدر ذلیل حرکات کے مرتکب ہو جاتے ہیں۔ اور ان جھوٹوں پر ہی قیاس کر کے وہ سمجھ سکے گی کہ کونسل کی ممبری اور آنریری مجسٹریٹی کے حصول کا الزام بھی اسی قسم کے اتہامات میں سے ہے۔ اللہ تعالیٰ شاہد ہے ہے کہ کونسل کی ممبری کیا اس سے ہزاروں گنے گئے بڑھ کر بھی کوئی دنیاوی عزت ہوتو ہو تو وہ میری نظروں میں ایک ننگے کے برابر بھی قدر نہیں رکھتی۔ مجھے اللہ تعالیٰ نے جو مقام دیا ہے اس کے مقابلہ