انوارالعلوم (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page xviii of 653

انوارالعلوم (جلد 5) — Page xviii

انوار العلوم جلد ۵ ۱ ۱۵ اسلام پر ایک آریہ پروفیسر کے اعتراضات کا جواب ۱۹۲۰ ء کے اواخر میں آریہ سماجیوں کی طرف سے لاہور میں قومی امور سے متعلق جلسے منعقد کئے گئے ۔ اپنی جلسوں میں گرو کل پارٹی سے تعلق رکھنے والے پر وفیسر رام دیو صاحب نے بھی ایک لیکچر دیا جس کا موضوع یہ تھا کہ بدھ مت مسیحیت اور اسلام زمانہ کے حالات کے مطابق نہیں ہیں اور سائنس کا مقابلہ نہیں کر سکتے ۔ جبکہ ہندومت جو خود سائنس کا سر چشمہ ہے اسے علوم کی ترقی سے کوئی خطرہ نہیں ہے لہٰذا یہی آئندہ دنیا کا مذہب ہوگا ۔ پروفیسر صاحب کے اس لیچر کا خلاصہ لاہور کے اخبار بندے ماترم نے ۱۳۰ نومبر نہ کی اشاعت میں شائع کیا ریہ اخبار لالہ لاجیت رائے نکالا کرتے تھے جو کہ خود ایک آریہ سماجی تھے ) ۔ حضرت مصلح موعود نے پروفیسر صاحب مذکور کے خیالات کا رد فرمانے کی غرض سے ایک مضمون تحریر فرمایا جو ۱۳ دسمبر اللہ کے الفضل (قادیان) میں شائع ہوا جس میں حضور نے پروفیسر رام دیو صاحب کے خیالات کی پر زور تردید فرمائی اور اسلام کی حقانیت پیش فرمائی ۔ حضور کے اس مضمون کی اشاعت کے بعد پروفیسر رام دیو صاحب نے ۱۶ جنوری شانه کو پرکاش نامی ایک اخبار میں اس کا جواب شائع کروایا۔ حضور نے اس کا بھی جواب الجواب تحریر فرمایا جو الفضل کی ہے۔ فروری 191 نہ کی اشاعت میں شائع ہوا اور چونکہ رام دیو صاحب نے اپنے دوسرے مضمون میں قرآن کریم کے الہامی ہونے کے متعلق کچھ اعتراضات پیش کرنے کی اجازت چاہی تھی اور اس خواہش کا اظہار کیا تھا کہ ضور ان اعتراضات کا جواب ارشاد فرمائیں تب حضور نے اس دوسرے مضمون میں اعتراضات کے سلسلہ کو ناواجب طوالت سے بچانے کے لئے نو(9) شرائط پر مشتمل تحریری پر تمل تحریری مباحثہ کا طریق پیش فرمایا جسے پروفیسر صاحب نے منظور کر لیا ۔ اس پر حضور نے ایک تیسرا مضمون تحریر فرمایا جو مورخہ ۷ اپریل ۱۹۲ شہ کو الفضل قادیان قادیان میں شائع ہوا اس تیسرے مضمون میں حضور نے اپنی پیش کردہ شرائط کی مزید تفصیلات پیش کرتے ہوئے یہ بھی تحریر فرمایا کہ :- اگر پروفیسر صاحب کو میری - تحریر سے اتفاق ہو تو وہ ان تین اعتراضات ۔۔۔۔ کو شائع کرا دیں جس کی بناء پر قرآن کریم کے الہامی ہونے میں ان کو کلام ہے