انوارالعلوم (جلد 5) — Page 127
انوار العلوم جلده ۱۲۷ خاتم النبیین کی شان کا اظہار آپ کی بعثت سے مراد وہ دعاوی ہیں جو آپ نے کئے ۔ اس لئے ہمیں یہ دیکھنا چاہئے کہ ان دعوؤں نے اسلام اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت ظاہر ہوتی ہے یا نہیں ۔ حضرت مرزا صاحب نے دعوی کیا ہے کہ اسلام کی حضرت مرزا صاحب کا دعوی نبوت شان کے اظہار کے لئے میں خدا تعالٰی لئے میں کی طرف سے آیا ہوں ۔ ایسا دعوی کرنے والے کو عربی میں نبی ، رسول اور نامور کہتے ہیں ۔ ہندوستانی میں اوبار اور انگریزی میں پرافٹ (PROPHET ) وغیرہ - حضرت مرزا صاحب کا یہ دعوی ہے جس کے مختلف زبانوں میں مختلف نام ہیں ۔ ان سے درجہ کے بڑے چھوٹے ہونے کا تعلق نہیں بلکہ یہ ظاہر ہوتا ہے کہ فلاں انسان خدا کی طرف سے ہے ۔ اس کے ماتحت ہم دیکھتے ہیں کہ حضرت مرزا صاحب نے جو رسول ہونے کا دعوی کیا ہے اس سے کس طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی فضیلت ظاہر ہوتی ہے ۔ حضرت مرزا صاحب کا دعوی تھا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی جو یہ پیشگوئی ہے کہ میرے خدام میں سے مہدی ہو گا وہ ری ہوگا وہ میں ہوں ۔ اسی طرح اسلام میں پیشگوئی ہے اور مسیحیت میں بھی ہے کہ حضرت میسج دوبارہ آئیں گے اور یہود کی کتابوں میں بھی یہی لکھا ہے اس کا مصداق میں ہوں اور میرا نام مسیح ہے ۔ اسی طرح انہوں نے اپنا نام کرشن بتایا ۔ جیسا کہ ہندوؤں کی کتابوں میں لکھا ہے کہ جب گناہ پھیل جائے گا تو اس وقت کرشن آئیں گے ۔ حضرت مرزا صاحب کا دعوی ہے کہ یہ سب نام مجھے دیتے گئے ہیں ۔ اب ہم دیکھتے ہیں کہ حضرت مرزا صاحب کو یہ نام دیئے جانے سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی کیا فضیلت ثابت ہوتی ہے۔ اس کے متعلق یاد رکھنا چاہئیے کہ تمام مذاہب میں آخری زمانہ سب مذاہب کے موعود میں ایک آنے والے کی پیشگوئی کی گئی ہے حتی کہ زرتشتی مذہب کی کتاب جاما سی میں بھی لکھا ہے کہ میری اولاد سے ایک نبی آئے گا جس کا نام موسیو ز ریمی ہوگا ۔ پھر بدھوں کی کتابوں میں بھی آنے والے کی پیشگوئی ہے۔ غرض تمام مذاہب میں خبر دی گئی ہے ۔ اب قدرتی طور پر سوال پیدا ہوتا ہے کہ ایک انسان کے اتنے نام کیوں رکھے گئے ۔ چنانچہ عام طور پر لوگ پوچھا کرتے ہیں کہ مرزا صاحب اپنے اتنے نام بتاتے ہیں۔ ایک آدمی کے جسم میں اتنے آدمیوں کی رو میں کیونکر داخل ہو گئیں۔ لیکن اصل بات یہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے اسلام کی عظمت ثابت کرنے کے لئے یہ طریق رکھا ہے۔ لکھا ہے کہ آخری زمانہ میں شیطان اور آدم کی جنگ ہوگی ۔ اور وہ جنگ خدائی اور شیطانی فوجوں کی آخری جنگ ہوگی ۔ اس وقت شیطان اپنا سارا زور لگائے گا اور اتنا لگائے گا کہ پہلے