انوارالعلوم (جلد 5) — Page 125
انوار العلوم جلده ۱۲۵ محمد وَصَلِّ عَلَى رَسُول الكيمي خاتم النبین کی شان کا اظہار حضرت مرزا صاحب کے آنے سے رسول کریم ﷺ کی کیا فضیلت ظاہر ہوئی حضرت فضل عمر خلیفتہ المسیح الثانی نے اا ا پریل ۱۹۲۰ء کو سیالکوٹ میں ایک دعوت کے موقع پر جس میں ایک غیر احمدی صاحب کی طرف سے یہ سوال پیش کیا گیا کہ حضرت مرزا صاحب کے آنے سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی کیا فضیلت ظاہر ہوئی ۔ حسب ذیل تقریر فرمائی ) ایک سوال ہمارا یہ ہے کہ سول کریم صلی الہ علیہ سلم کی نیت کے بعد ہمارا یہ عقیدہ نہیں ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے بعد مذہبی دنیا کوئی یا تغیر ہوسکتا ہے جو سلام اور دنیا میں کوئی ایسا تغیر ہو سکتا ہے جو اسلام اور خدا تعالیٰ سے تعلق رکھتا ہو اور سول کریم صلی اللہ علیہ وسلمکے لائے ہوئے دین کے خلاف ہو۔ اگر کوئی ایسی بات ہو کہ جس کا اسلام کی ترقی اور فضیلت کے خلاف پڑتا ہو یا اس سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت نہ ظاہر ہوتی ہو تو وہ اسلام کی طرف منسوب نہیں کی جاسکتی ہیں جبکہ ہمارا یہ عقیدہ ہے کہ اسلام کے سوا اور کوئی ایسا مذہب نہیں جو ساری خوبیوں کا مجموعہ ہو تو ہم سے اس بات کا مطالبہ کرنا کہ مرزا صاحب کے آنے سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں کیا زیادتی ہوئی اور اسلام کی کون سی خوبی ظاہر ہوئی بالکل بجا اور درست ہے ۔ اور جب تک کوئی احمدی اس مطالبہ کو پورا نہ کرے اس وقت تک وہ احمدی کہلانے کا مستحق نہیں ۔ یہ اور بات ہے کہ کوئی اپنی نادانی اور غفلت سے اس بات کی طرف توجہ نہ کرے لیکن توقع کی جاتی ہے کہ ہر ایک سمجھدار جو اپنے آپ کو کسی مذہب کی طرف منسوب کرتا ہے وہ کسی ایسی بات کو نہ مانے جس