انوارالعلوم (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 121 of 653

انوارالعلوم (جلد 5) — Page 121

انوار العلوم جلد ۵ ۱۲۱ تقریر سیالکوٹ جاسکے ۔ تو اس زمانہ میں جبکہ حکومت کو بدلنی تھی ، ہر طرف سے مخالفت ہو رہی تھی ، آپ سے سے ہورہی تھی بات تک کرنا ناجائز سمجھا جاتا تھا، اسی سیالکوٹ سے ایک اشتہار شائع ہوا تھاکہ جو شخص مرزائیوں سے بات کرے گا اس کا نکاح ٹوٹ جائے گا ۔ علماء نے کہہ دیا ہم وارث دین ہیں ۔ ہم فتویٰ دیتے ہیں کہ جائے گا۔ علماء نے کہ دیا مرزا واجب القتل ہے ۔ لیکن وہ اکیلا سب کے مقابلہ میں کھڑا ہو گیا اور اس نے علی الاعلان کہ دیا کہ میں اس کا غلام ہوں جو خدا کا محبوب ہے اور میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت قائم کرنے کے لئے خدا تعالیٰ کی طرف سے کھڑا ہوا ہوں مجھے کوئی ہلاک نہیں کر سکتا اور اس وقت خدا تعالیٰ کا یہ الہام بھی سنا دیا کہ دنیا میں ایک نذیر آیا پر دنیا نے اس کو قبول نہ کیا ۔ لیکن خدا اسے قبول کرے گا اور بڑے زور اور جملوں سے اس کی سچائی ظاہر کر دے گا ۔ اب دیکھو ایسے حالات میں دنیا کو یہ کہنا اور پھر ایسا ہی ہو جانا کس کی عقل میں آسکتا ہے کہ یہ جھوٹے اور فریبی انسان کا کام ہے۔ ہر گز نہیں ۔ ایک طرف وہ دعوی دیکھو جو حضرت مرزا صاحب نے کیا اور دوسری طرف ان تکالیف پر نظر کرو جو حضرت مرزا صاحب اور آپ کے ماننے والوں کو دی گئیں اور پھر غور کرو کہ جو کامیابی آپ کو نصیب ہوئی اور ہو رہی ہے یہ کسی جھوٹے اور مفتری کو ہو سکتی ہے ۔ ان باتوں پر غور کرو اور فائدہ اُٹھاؤ ۔ مله عنه تذکره صفحه ۱۰۴ ایڈیشن چهارم