انوارالعلوم (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 94 of 653

انوارالعلوم (جلد 5) — Page 94

انوار العلوم جلد لله ۹۴ جماعت احمدیہ کی ذمہ داریاں دہرایا نہیں کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ایک شخص پیغام لے کر آئے اس کے لئے تو ہر ایک عورت، مرد، بچے، بوڑھے ، نوجوان اور نو عمر کا فرض تھا کہ اس کی آواز کو سنتا اور اس کی قدر کرتا لیکن افسوس ادنیا کے اکثر لوگوں نے قدر نہ کی ۔ اب اگر ہماری جماعت بھی جس کو خدا تعالیٰ نے قدر کرنے کی توفیق دی ہے وہ بھی اسے پہچاننے کے باوجود قدر نہ کرے تو کس قدر افسوس اور رینج کا مقام ہو گا۔ خدا تعالیٰ کا وہ برگزیدہ انسان تو گذر گیا لیکن چونکہ ابھی زمانہ قریب ہے اس لئے اس وقت بھی خدا تعالیٰ کے خاص فضل ہو رہے ہیں ۔ ۔ خدا کا خاص فضل میں تو اپنی ذات کو دیکھتا ہوں تو حیران رہ جاتا ہوں ۔ اگر کوئی اجنبی آئے اور مجھ سے ان باتوں کو گنے جو خدا تعالیٰ مجھ پر کھولتا ہے تو سمجھے کہ یہ بڑا عالم ہے لیکن میں اپنے علم اور اپنی پڑھائی کو خوب جانتا ہوں ۔ میں دس سال سکول اور میں پڑھتا رہا ہوں لیکن مجھے یاد نہیں کر یں کسی سال بھی پاس ہوا اور کسی مضمون میں بھی پاس ہوا ۔ انٹرنس کے امتحان میں دوتین مضامین میں پاس ہوا تھا جن میں سے ایک عربی تھا۔ یوں نہیں کبھی اردو میں بھی پاس نہیں ہوا تھا۔ پھر میں حضرت مولوی صاحب کے پاس پڑھنے بیٹھا۔ مولوی صاحب نے بخاری پندرہ دن میں مجھے پڑھائی اور وہ اس طرح کہ فرماتے سناتے جاؤ اگرمیں کچھ پوچھتا توفرماتے پوچھو مت پڑھے جاؤ اسی طرح ایک دو اور کتا بیں پڑھیں اور صرف و نحو کی چھوٹی سی کتاب پڑھی گو یا ظاہری طور پر ی نے مجھے نہیں پڑھا ۔ مگر میں یہ جانتا ہوں کہ اسلام پر حملہ کرنے والا خواہ کسی علم کا ماہر ہو اور اس علم کائیں نے نام بھی نہ سنا ہو وہ اعتراض کر کے دیکھ ہے ۔ اگر اسے یہ نہ معلوم ہو جائے کہ میں اس سے زیادہ اس علم کو جانتا ہوں تو پھر اعتراض کرے لیکن یہ میری پڑھائی اور میری محنت کی وجہ سے نہیں ۔ بلکہ اس مقام اور رتبہ کی وجہ سے ہے جس پر مجھے کھڑا کیا گیا ہے ۔ پھر مجھے لکھنے اور اس سے زیادہ بولنے کی بہت کم عادت ہے۔ کوئی ایک گھنٹہ میرے پاس بیٹھا رہے میں اس سے کوئی بات نہیں کر سکتا ۔ بعض لوگ سمجھتے ہونگے کہ میں تکبر کی وجہ سے ایسا کرتا ہوں ۔ مگر میں بات کرنے کی کوشش کرتا ہوں لیکن کچھ سوجھتا نہیں۔ اور تقریر کرنے کے لئے تو میں کچھ سوچ ہی نہیں سکتا ۔ کئی بار ایسا ہوتا ہے کہ میں خطبہ پڑھنے کے لئے جا کر کھڑا ہوتا ہوں لیکن یہ معلوم نہیں ہوتا کہ کیا کہنا ہے ۔ پھر تشہد پڑھتا ہوں مگر معلوم نہیں ہوتا کیا کہوں گا۔ پھر سورہ فاتحہ پڑھتا ہوں ۔ اس وقت بھی معلوم نہیں ہوتا کہ کیا بیان کروں گا۔ پھر میں بولنا شروع بھی کر دیتا ہوں اور تین چار منٹ تک بولتا جاتا ہوں ۔ پھر پتہ نہیں ہوتا کہ کیا کہوں گا ۔ اس کے بعد جا کر