انوارالعلوم (جلد 5) — Page 90
انوار العلوم جلد ۵ ۹۰ جماعت احمدیہ کی ذمہ داریاں کام کرنے والوں کا فرض اسی طرح جن لوگوں کے سپرد کام ہو مثلاً یہاں کی جماعت کا امیر مقرر ہے اور اس کے ماتحت اور کام کرنے والے ہیں۔ ر ان کا بھی فرض ہے کہ وہ یہ نہ کہیں کہ ہم چونکہ افسر بنائے گئے ہیں، اس لئے ہم ہی اپنی ہر ایک بات منوائیں گے۔ اپنی بات منوانے کا بہترین طریق یہ بھی ہوتا ہے کہ کسی کی بھی مان لی جائے۔ اپنی ہی بات منوانے کا وہی موقع ہوتا ہے جبکہ انسان دیانتداری اور ایمانداری کے ساتھ سمجھتا ہو کہ میں اس کے خلاف مان ہی نہیں سکتا ۔ ورنہ تھوڑا بہت نقصان اُٹھا کر بھی دوسروں کی بات مان لینی چاہئے تاکہ دوسروں کے احساسات کو صدمہ نہ اسات کو صدمہ نہ پہنچے ۔ اسی طرح آپس کے معاملات کے متعلق یہ بات مختلف طبائع کا خیال رکھنا ضروری ہے بھی یاد نظر رکھنی چاہئے کہ بائع مختلف قسم کی ہوتی ہیں۔ بعض سخت ہوتی ہیں اور بعض نرم جو سخت ہوتی ہیں انھیں تھوڑی سی بات پر بھی ٹھوکر لگ جاتی ہے ۔ تو دوسروں کے ساتھ سلوک اور معاملہ کرتے وقت ان کی طبائع کا ضرور خیال رکھنا چاہئے۔ انتظام قائم رکھنے کے لئے اسلام میں امیر رکھا گیا ہے اور حکم دیا گیا ہے کہ جس طرح وہ کیسے اسی طرح کرو۔ لیکن معاملہ اور سلوک کرنے میں امیر کا یہ حق نہیں ہے کہ کسی کو حقیر اور ہے اونی سمجھے۔ حتی کہ محمد صلی اللہ عیہ وسلم کو بھی یہ حق نہیں کہ کسی کو حقیر سمجھیں ۔ کجا یہ کہ ان کے خلفاء میں سے کسی کو یہ حق ہو۔ اور پھر کجا یہ کہ ان کے خلفاء کے غلاموں کے غلاموں کو یہ حق ہو تو خود نبیوں کو یہ حق حاصل نہیں کہ دوسروں کو حقیر سمجھیں۔ اس سے میری مراد یہ ہے کہ خدا تعالیٰ نیوں کو ایسا کرنے سے خود بچاتا ہے، اور ان کے وہم و گمان میں بھی کسی کی تحقیر نہیں آتی۔ جس پر خدا احسان کرتا ہے وہ اور جھکتا ہے تو خدا تعالیٰ جس کو بڑا بنا تا ہے وہ خود سب سے ہے اور نیچے ہو کر رہتا ہے۔ کیونکہ جس کو خدا تعالیٰ کوئی درجہ دیتا ہے اس پر احسان کرتا ہے اور احسان ایک بوجھ ہوتا ہے اور بوجھ سے گردن اونچی نہیں ہوا کرتی بلکہ نیچی رہتی ہے۔ ایک ایسا شخص جس پہ پر خدا تعالیٰ کوئی احسان کرتا ہے اور وہ تکبر کرتا ہے اس کے تکبر کرنے کی یہی وجہ ہو سکتی ہے کہ یا تو وہ سمجھتا ہے کہ جو کچھ مجھے ملا ہے میرا حقی ہوسکتی۔ تھا یا یہ کہ وہ اس کو اپنے لئے عزت ہی نہیں سمجھتا۔ لیکن یہ دونوں دھو کے ہیں اور سخت خطرناک دھو کے ہیں جن کا نتیجہ تباہی اور بربادی کے سوا اور کچھ نہیں ہوتا ۔ اس لئے ہر جگہ کے کارکنوں اور خصوصاً لاہور کے کارکنوں کو جو اس وقت میرے مخاطب ہیں چاہئے کہ تواضع اور فروتنی اختیار کریں