انوارالعلوم (جلد 5) — Page 88
انوار العلوم جلد ۵ جماعت احمدیہ کی ذمہ داریاں قیام اجتماع کیلئے رائے کی قربانی ضروری ہے ان تمام حالات کو مد نظر تمام مد رکھتے ہونے میں آپ لوگوں کو ایک نصیحت کرتا ہوں اور وہ یہ کہ سب سے بڑی چیز اجتماع کے قیام کے لئے انسان کی رائے کی قربانی ہے بعض لوگ غلطی سے یہ سمجھتے ہیں کہ جب ہم ایک بات کو سچا سمجھتے ہیں تو پھر کس طرح اس کے متعلق اپنی رائے کو قربان کر سکتے ہیں۔ اگر قربان کر دیں تو اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ جھوٹ اور ناراستی پھیلے گی۔ لیکن یہ ایک بہت بڑی غلطی ہے جو واقعات پر نظر نہ رکھنے کی وجہ سے لگتی ہے کسی بات کے پیچ یا جھوٹ ہونے اور کسی رائے کے صحیح یا غلط ہونے میں بہت بڑا فرق ہے۔ سچ اور جھوٹ تو یہ ہوتا ہے کہ ایسی بات جس کو انسان دیکھتا ہے اور دیکھ کر ایسے رنگ میں بیان کرتا ہے جس طرح اس نے دیکھا نہیں یہ جھوٹ ہے ۔ اگر ہو بہو بیان کر دے تو یہ سچ ہوگا ۔ یا کوئی پرانا واقعہ ہے اس کے متعلق وہ خود تو کچھ نہیں جانتا لیکن کسی اور نے اُسے جس طرح بتایا ہے وہ اسی طرح بیان نہیں کرتا بلکہ اور طریق بیان کرتا ہے یہ جھوٹ ہے اور اگر اس نے کسی سے جو کچھ سنا ہے وہی جھوٹ ہے اور وہ اسی کو آگے بیان کرتا ہے تو یہ بھی جھوٹ ہے ۔ اس سے معلوم ہوا کہ سچ یا جھوٹ کسی ایسے امر کے متعلق ہوتا ہے جو زمانہ ماضی میں گذر چکا ہو لیکن رائے آئندہ ہونے والے معاملات کے متعلق ہوا کرتی ہے۔ مثلاً یہ ہے کہ فلاں جگہ جلسہ کرنا یہ چاہئے یا نہیں۔ اس کے متعلق یہ کہنا کہ کرنا چاہئے یا نہیں کرنا چاہئے ۔ اس میں سچ یا جھوٹ کا کوئی دخل نہیں بلکہ یہ رائے ہے جس کے متعلق صحیح یا غلط کہا جا سکتا ہے لیکن سچ یا جھوٹ نہیں کہا جا سکتا ہیں اس بات کو خوب اچھی طرح یاد رکھنا چاہئے کہ رائے میں سچ یا جھوٹ کا تعلق نہیں ہوتا ۔ بلکہ رائے انسان کا خیال ہوتا ہے کہ فلاں کام یوں مناسب نہیں، یوں مناسب ۔ سب ہے۔ پھر رائے کے صحیح یا غلط ہونے کا کسی رائے کے متعلق کس طرح فیصلہ کرنا چاہئے یا اس کے وقت انا انا فیصلہ کرتے وقت یہی نہیں دیکھا جاتا که نقصان کی کونسی بات ہے اور نفع کی کونسی ۔ مثلاً ایک شخص کہتا ہے کہ فلاں کام یوں کرنا چاہئے ۔ ہو سکتا ہے کہ وہ فی الواقع مفید ہو لیکن دوسروں کی سمجھ میں اس کا مفید ہونا نہ آئے۔ ایسے موقع پر یہ دیکھنا چاہئے کہ ان سب لوگوں کو فتنہ میں ڈالنا اچھا ہے جن کی سمجھ میں اس کام کا اچھا ہونا نہیں آتا یا اس کو کرنا مفید ہے ۔ ایسے موقع کے لئے یہی مناسب ہوگا کہ اس کو چھوڑ دیا جائے اور جس طرح دوسرے کہتے ہیں اسی طرح کیا جائے پس معاملات کا فیصلہ کرتے وقت ہر انسان کو ہمیشہ اپنی ہی رائے پر زور