انوارالعلوم (جلد 5) — Page 86
انوار العلوم جلد ۵ ٨۶ جماعت احمدیہ کی ذمہ داریاں آب خورہ ٹیڑھا رکھ دیا۔ لکھا ہے ۔ اس پر انھوں نے بادشاہ کی طرف دیکھ کر کہا کہ اس کو کس احمق نے وزیر بنایا ہے کہ یہ آنخورہ کو بھی سیدھا رکھنا نہیں جانتا ۔ بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ نے وزیر بنایا ہے کہ یہ کو بھی سیدھا کھا جانتا۔ یہ ہے اتنی سی ات پر بادشاہ کے سامنے ایسے الفاظ استعمال کرنے مناسب نہ تھے۔ لیکن اگر دیکھا جائے و اس قسم کی معمولی باتوں کا انسانکے دوسرے اہم کاموں پر بڑا اثر پڑتاہے۔ یہی وجہ ہے کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ نماز پڑھتے وقت صفوں کو سیدھا رکھو ورنہ تمہارے دل ٹیڑھے ہو جائیں گئے ۔ اسی طرح فرمایا خدا خوبصورت ہے اور خوبصورتی کو پسند کرتا ہے۔ صفوں کو سیدھا رکھنے کی حقیقت فوجوں کے ظاہری انتظام کو دیکھ کر معلوم ہو سکتی ہے ۔ فوجوں میں کیسی ظاہری خوبصورتی اور انتظام ہوتا ہے اور اس کا ان کے کام پر کتنا اثر پڑتا ہے۔ لیکن جن فوجوں کا ظاہری انتظام اچھا نہیں ہوتا ۔ وہ بھی دشمن پر فتح نہیں پاسکتیں تو مومن کو ظاہری شکل بھی خوبصورت بنانے کی کوشش کرنی چاہئے اور لیکچر سننے کے لئے ظاہری خوبصورتی یہی ہے کہ سننے والوں کا اکثر حصہ خطیب کے سامنے ہو۔ کیونکہ سامنے ہونے کا بہت بڑا اثر ہوتا ہے ۔ اس اہور کی حیثیت حضرت خلیفہ ان کے نزدیک ای او ای و یاری مضمون کی طرف پھیرتا ہوں جس کے لئے میں نے آج آپ کو بلایا ہے۔ میں لاہور میں قریباً بیس سال سے آتا ہوں اور یہاں خدا تعالیٰ نے میرا ایک خاص تعلق بھی پیدا کیا ہوا ہے یعنی یہیں وہ گھر ہے جس میں میرا بیاہ ہوا ہے ۔ اس لحاظ سے قادیان کے بعد لاہور میرے لئے گھر کی حیثیت رکھتا ہے ۔ پھر جس طرح حضرت صاحب کے نزدیک بعد لئے رکھتا ہے ۔ قادیان کے بعد سیالکوٹ کا درجہ تھا اسی طرح میرے نزدیک قادیان کے بعد لاہور کا درجہ ہے اور گو ہما را تو یہ مذہب نہیں لیکن بعض فقہاء کے نزدیک اس تعلق کی وجہ سے جو مجھے لاہور سے ہے یہاں آکر مجھے پوری نماز پڑھنی چاہئے ۔ اس عرصہ میں کہ جب سے میں لاہور آتا ہوں ۔ میں نے جماعت لاہور کی مختلف حالتیں یا یہاں کی جماعت کی مختلف حالتیں دیکھی ہیں میں نے وہ زمانہ بھی دیکھا ہے جبکہ لاہور میں ہماری جماعت تو تھی لیکن بہت قلیل تھی۔ پھر میں نے وہ زمانہ بھی دیکھا ہے کہ یہاں کی جماعت کثیر ہو گئی اور بہت سے لوگ اس میں شامل ہو گئے ۔ مگر میر سے نزدیک اس وقت باد بود کثیر ہونے کے قلیل تھی ۔ اس لئے کہ لوگوں کے دل پھٹے ہوئے تھے اور اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ لاہو ر اس اختلاف کا مرکز قرار پایا جس نے ڈائنامیٹ کی طرح احمدیت کو اُڑانا چاہا اور وہ شورش عاه بخاري كتاب الصلوة باب تصوية الصفوف عند الاقامة ما : عه مسند احمد بن خلیل جلد ۴ صفحه ۱۳۳