انوارالعلوم (جلد 4) — Page 70
انوار العلوم جلد ۴ ربوبیت باری تعالی ہر چیز پر محیط ہے نہیں کر رہے۔ پس ان لوگوں کو جو حضرت مرزا صاحب پر طرح طرح کے الزام لگاتے ہیں خدا تعالٰی کی خشیت اور خوف سے کام لینا چاہئے اور انہیں غور کرنا چاہئے کہ ان کے مونہہ سے کیا نکل رہا ہے کیونکہ خدا کی طرف سے اسلام کی تائید کرنے کے لئے آنے والے انسان کا نام دجال رکھنا اس کی ہتک کرنا نہیں بلکہ اسلام کی ہتک کرتا ہے کہ اسلام اپنے قیام کے لئے ایک دجال کا محتاج تھا۔ اگر وہ نہ آیا ہوتا تو نہ معلوم اس کی کیا حالت ہوتی۔ حضرت مرزا صاحب نے دنیا میں آکر وہ کام کر دکھلایا اور ایسے نشانات پیش کئے کہ جن کا کوئی انکار نہیں کر سکتا۔ چنانچہ آپ نے مختلف مذاہب کے لوگوں کو چیلنج دیا کہ میرا دعوی ہے کہ اسلام سچا مذہب ہے اور تم کہتے ہو کہ نہیں ہمارے مذہب بچے ہیں۔ آؤ اس کا فیصلہ کر لو اور وہ اس طرح کہ کچھ مریض لیتے ہیں اور ان کو قرعہ اندازی کے ذریعہ آپس میں تقسیم کر لیا جائے پھر ان کی صحت کے لئے دعا کی جائے جس کے مریض زیادہ صحت یاب ہوں گے اس کا مذہب سچا ثابت ہو جائے گا۔ یہ فیصلہ کا ایک آسان طریق تھا لیکن کوئی مقابلہ پر نہ آیا اور پانیر اخبار میں مضمون لکھا گیا کہ ہمارے پادری جو اتنی اتنی بڑی تنخواہیں لیتے ہیں کیوں اس وقت مقابلہ کے لئے نہیں نکلتے لیکن پھر بھی کوئی نہ آیا۔ میں نے اس وقت آپ لوگوں کے سامنے مختلف مذاہب کا غور و فکر سے کام لینا چاہئے مخصر ساذکر کیا ہے اور بتایا ہے کہ مذہب ہے اور بتایا ہے کہ مذہب کوئی معمولی چیز نہیں ہے بلکہ اس راستہ کا نام ہے جو خدا تعالیٰ سے ملاتا ہے اور خدا تعالیٰ سے پیاری اور کیا چیز ہو سکتی ہے۔ پس میں آپ لوگوں کو توجہ دلاتا ہوں کہ پیشتر اس کے کہ آپ لوگوں پر موت کی گھڑی آئے آپ غور کریں کہ زندہ مذہب کونسا ہے اور زندہ خدا کا ثبوت کسی مذہب میں ملتا ہے اور کونسا مذہب ہے جو خدا کو رب العلمین ثابت کرتا ہے اگر آپ لوگ غور کریں گے تو معلوم ہو جائے گا کہ اسلام ہی ایک ایسا مذہب ہے جس میں یہ سب باتیں پائی جاتی ہیں اسی طرح جو لوگ حضرت مرزا صاحب کے منکر ہیں ان کو معلوم ہو جائے گا کہ اس زمانہ میں صرف حضرت مرزا صاحب ہی کی جماعت اس بات کی مدعی ہے کہ الہام کا دروازہ کھلا ہے اور خدا تعالیٰ کا یہ انعام آج بھی اسی طرح حاصل ہو سکتا ہے جس طرح آج سے پہلے ہوتا تھا۔ چنانچہ حاصل ہوا اور ہماری جماعت میں سینکڑوں ایسے لوگ ہیں جن سے خدا تعالیٰ نے کلام کیا اور ان کو خدا کے کلام کی لذت اور الذت اور سرور حاصل ہوا ۔ ان کی دعا دعائیں قبول کرتا ہے اور مشکلات و مصائب میں