انوارالعلوم (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 62 of 709

انوارالعلوم (جلد 4) — Page 62

انوار العلوم جلد ۴ ۶۲ ربوبیت باری تعالی ہر چیز پر محیط ہے اسلامی احکام پر چلنے والا اور رسول کریم ال کا غلام ہوں اور اسلام کی تعلیم پر چل کر اس مرتبہ پر پہنچا ہوں کہ خدا مجھ سے کلام کرتا ہے اور آئندہ کی خبریں بتاتا ہے۔ اگر اس کا یہ دعوئی درست ثابت ہو جائے اور ہونا چاہئے ورنہ یہ اور نہ یہ ثابت ہو جائے گا کہ خدا رب العلمین نہیں ہے تو کسی عقلمند انسان کو اسلام کے سچا ہونے میں کوئی شک و شبہ نہیں رہنا چاہئے۔ میں نے بتایا ہے کہ ہمارے آنحضرت اللہ نے خدا کی ربوبیت کا ثبوت اسلام میں فرمایا ہے کہ اسلام میں ! میں ایسے لوگ ہوتے رہیں گے جو خدا سے کلام پاکر لوگوں کی اصلاح کریں گے اور اس کی وجہ یہ بتلائی ہے کہ خدا تعالیٰ جیسے پہلے لوگوں کا رب تھا اسی طرح ہمارا بھی رب ہے اور وہ ہماری روحانی ربوبیت کے لئے ضروری ہے کہ ایسا ہو۔ پھر میں نے بتایا ہے کہ اس زمانہ میں ایک انسان ہوا ہے جس کی خدا تعالیٰ نے خاص طور پر تربیت کی اور وہ خدا سے کلام پاکر کھڑا ہوا اور اس نے کہا کہ مجھے اسلام کی تعلیم پر عمل کرکے اور رسول کریم ال کی غلامی کی وجہ سے یہ رتبہ حاصل ہوا ہے کہ جس طرح پہلے لوگوں کی روحانی ربوبیت کے لئے نبی بھیجے جاتے تھے اس طرح مجھے بھیجا گیا ہے ۔ جو لوگ یہ سننے کے عادی ہیں کہ ہمارے رسول کے بعد اب کوئی رسول نہیں آسکتا اور نہ اب خدا کسی سے کلام کرتا ہے وہ یہ سن کر حیران ہوں گے لیکن تاریخ بتلاتی ہے کہ یہ خیال اس وقت پیدا ہو تا رہا ہے جب قو میں گرنے لگی ہیں۔ دیکھئے یہود کا ہمیشہ یہ خیال رہا کہ انبیاء کے آنے کا سلسلہ جاری ہے اور خدا اپنے بندوں سے کلام کرتا ہے لیکن جب ان کی تباہی کا وقت آیا تو ان میں یہ خیال پیدا ہو گیا کہ انبیاء کا آنا بند ہو گیا ہے اور اب خدا کسی سے کلام نہیں کرتا۔ اسی طرح عیسائیوں میں بھی یہی خیال پیدا ہوا اور یہ قاعدہ کی بات ہے کہ جو چیز کسی کے پاس نہ ہو وہ اول تو اس کے ہونے سے ہی انکار کرتا ہے نہیں تو اسے برا اور فضول بتاتا ہے۔ چنانچہ انگور کھٹے کی مثل مشہور ہے۔ تو وہ مذہب جو کسی نبی کے آنے سے یا خدا کے کلام کے جاری رہنے سے انکار کرتے ہیں وہ اس لئے نہیں کرتے کہ انہیں ضرورت محسوس نہیں ہو رہی بلکہ اس لئے کرتے ہیں کہ ان میں یہ خوبی نہیں پائی جاتی اور اس کو تسلیم کر کے انہیں ماننا پڑتا ہے کہ ہمارا مذہب قابل قبول نہیں ہے مگر اسلام اس کا انکار نہیں کرتا بلکہ اس کے ہونے کا ثبوت دیتا ہے۔ چنانچہ اس زمانہ میں بھی اس نے ثبوت پیش کیا ہے اور ایک شخص نے دعوی کیا ہے کہ مجھے خدا نے نبی بنا کر دنیا کی