انوارالعلوم (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 48 of 709

انوارالعلوم (جلد 4) — Page 48

انوار العلوم جلد ۴ ۴۸ عورتوں کا دین سے واقف ہونا ضروری ہے اس کے علاوہ تقویٰ اللہ حاصل کرنا ایک نہایت ضروری چیز ہے کیونکہ تقوی حاصل کرنا اسلام صرف باتیں سنانے کی اجازت نہیں دیتا بلکہ کہتا ہے کہ انسان کو خدا کا خوف اور محبت اپنے دل میں پیدا کرنی چاہئے ۔ اس لئے یہ نہایت ضروری ہے اور جب تک یہ نہ ہو کوئی عمل عمل نہیں کہلا سکتا۔ نماز نماز نہیں کہلا سکتی۔ روزہ روزہ نہیں کہلا سکتا۔ زکوہ زکوۃ نہیں کہلا سکتی ۔ حج حج نہیں کہلا سکتا کیوں؟ اس لئے کہ نماز اس غرض کے لئے نہیں رکھی گئی کہ انسان کی ورزش ہو۔ روزہ اس لئے نہیں کہ انسان کو بھوکا پیاسا رکھا جائے۔ زکوۃ اس لئے نہیں کہ مالی نقصان ہو اور حج اس لئے نہیں کہ سفر کی صعوبت برداشت کرنی پڑے بلکہ ان کی غرض اللہ کا تقویٰ اور نیکی پیدا کرنا ہے۔ حسد و کینہ لڑائی اور فساد بدی اور برائی وغیرہ وغیرہ بری باتوں سے بچا کر انسان کو متقی بنانا ہے کیونکہ میں سب نیکیوں کی جڑ ہے۔ چنانچہ حضرت مسیح موعود نے بھی لکھا ہے مار اگر سه ی اک نیکی کی جڑ اتقا ہے کچھ رہا ہے یہ جڑ رہی سب تو یہ بہت ضروری چیز ہے اس کے لئے سوچنا چاہئے کہ ہمارے کسی کام کا یہ نتیجہ نہ ہو کہ خدا تعالٰی ناراض ہو جائے یا کسی انسان کو تکلیف پہنچے ۔ آج کل عورتوں میں یہ بات زیادہ پائی جاتی ہے کہ وہ دوسری کو تکلیف پہنچا کر خود کچھ حاصل کر لینا اچھا سمجھتی ہیں۔ مگر تقوئی ایسا کرنے سے روکتا ہے۔ پھر عورتیں ایک دوسرے کو طعنے دیتی ہیں ہنسی کرتی رہتی ہیں اور عیب نکالتی ہیں اور آخر کار لڑائی شروع کر دیتی ہیں یہ سب باتیں تقوی کے خلاف ہیں۔ اس قسم کے عیب تو عورتوں میں بہت سے ہیں۔ اگر ان کو بیان کرنے لگوں تو بہت دیر لگے گی اور آج میرے حلق میں درد بھی ہے۔ اس ۔ ہے۔ اس لئے میں نے یہ اصل بتا دیا ہے کہ ہر ایک ایسا کام جس ۔ اسے خدا ناراض ہو یا ۔ خدا کی کسی مخلوق کے لئے رکھ اور تکلیف کا باعث : کا باعث ہو اس سے بچنا چاہئے ۔ اگر یہ بات پیدا ہو جائے تو تقوی اللہ حاصل ہو جاتا ہے۔ یہ چند ایک باتیں ہیں جو میں نے نصیحت کے طور پر بیان کر دی ہیں اگر ان کو یاد رکھوگی خاتمه اور ان کے مطابق عمل کرو گی تو فائدہ اٹھاؤ گی۔ (الفضل ۲۷- اکتوبر ۱۹۱۷ء)