انوارالعلوم (جلد 4) — Page 45
انوار العلوم جلد ۴ لده عورتوں کا دین سے واقف ہو نا ضروری ہے نبی بھیجتا رہا یہ نہیں ہوا کہ انہیں کو دوبارہ زندہ کر کے بھیجتا رہا ہے۔ پھر کیا وجہ ہو سکتی ہے کہ حضرت عیسی کو دوبارہ بھیجے۔ مسلمانوں میں یہ ایک بہت بے ہودہ عقیدہ پھیلا ہوا ہے حالانکہ حضرت عیسیٰ کے آنے سے مراد یہ تھی کہ ان کی صفات کا ایک انسان آئے گا اور وہ حضرت مرزا صاحب آئے ہیں۔ جو حضرت عیسیٰ کی طرح یہودیوں کی اصلاح پر مامور کئے گئے ہیں کیونکہ آنحضرت اللہ نے فرما دیا ہوا ہے کہ مسلمان یہودی ہو جائیں گے۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہے کہ حضرت نوح سے لے کر آپ تک اس زمانہ کافتنہ کے سب نبیوں نے اس فتنہ کی خبر دی ہے۔ جو حضرت مسیح موعود کے وقت آئے گا۔ اب دیکھ لو کہ اتنے بڑے فتنہ کے دور کرنے کے لئے کس قدر کوشش کی ضرورت ہے۔ آج کل ہماری جماعت کے مردوں سے جس قدر ہو سکتا ہے کوشش کر رہے ہیں۔ لیکن ضرورت ہے کہ عورتیں بھی ان کی مدد کریں اور اس کام عورتیں دعائیں میں کریں میں ان کا ساتھ دیں۔ درد دل سے دعائیں مانگا کریں کہ اسلام کی ترقی ہو۔ خدا تعالیٰ حق کے قبول کرنے کے لئے لوگوں کے دل کھولے۔ دنیا سے بدیاں اور برائیاں دور ہوں۔ اللہ تعالیٰ کا نام دنیا میں پھیلے اور اللہ تعالی کی طرف سے جو نور آیا ہے لوگ اس سے فائدہ اٹھا دیں۔ اس کے علاوہ جہاں تک ان سے ہو سکے مالی خدمت بھی کریں۔ آنحضرت الی چندہ دیں جب مردوں سے چندہ لیا کرتے تھے تو عورتوں سے بھی وصول کرتے تھے اور یہ چندہ وہ اپنے لئے نہ لیتے تھے اور نہ اللہ کے پیارے اپنی ذات کے لئے مانگا کرتے ہیں ان کا انتظام خدا تعالیٰ خود کرتا ہے۔ تو نہ آنحضرت ﷺ نے اپنے لئے کبھی مانگا نہ آپ سے پہلے انبیاء نے اپنے لئے مانگا نہ اس زمانہ میں جس کو خدا نے مسیح موعود کر کے بھیجا اس نے اپنے لئے کچھ طلب کیا اور نہ وہ جو آپ کے بعد کھڑے ہوئے انہوں نے ایسا کیا بلکہ سب دین کے لئے ہی مانگتے رہے اور میں بھی اس غرض کے لئے کہتا ہوں کہ جن عورتوں کو خدا تعالی توفیق دے وہ اس کے راستہ میں اپنے مالوں سے دیں۔ پچھلے دنوں میں نے مستورات کو چندہ دینے کی تحریک کی تو مجھے بتایا گیا کہ مرد عورتوں کو روپیہ نہیں دیتے بلکہ جس چیز کی ضرورت ہو وہ لا دیتے ہیں اس لئے وہ چندہ کہاں سے دیں لیکن یہ بات شریعت کے خلاف ہے۔ آنحضرت الی اور صحابہ کرام کا یہ طریق تھا کہ عورتوں کو اپنے مال میں سے حصہ دیا کرتے تھے۔ اب بھی اسی عه بخاری کتاب الفتن باب ذكر الدجال