انوارالعلوم (جلد 4) — Page 42
انوار العلوم جلد ۴ لم ۳۲ عورتوں کا دین سے واقف ہونا ضروری ہے کپڑے پاک رہ سکتے ہیں۔ لیکن اگر احتیاط نہیں کی جاسکتی تو کیا یہ بھی نہیں ہو سکتا کہ ایک جوڑا ایسا بنالیا جائے جو صرف نماز پڑھنے کے وقت پہن لیا جائے اور اگر کوئی عورت ایسی ہی غریب ہے کہ دوسرا جوڑا نہیں بنا سکتی تو اسے بھی نماز معاف نہیں وہ پلید کپڑوں میں ہی پڑھ لے ۔ اول تو انسانیت چاہتی ہے کہ انسان پاک و صاف رہے اس لئے اگر کپڑا نا پاک ہو جائے تو اسے صاف کر لینا چاہئے لیکن اگر فرض کر لیا جائے کہ کوئی ایسی صورت ہے جس میں صاف نہیں کیا جا سکتا تو بھی نماز نہیں چھوٹ سکتی ۔ مگر بہت کم عورتیں ہیں جو پڑھتی ہیں، اور جو پڑھتی ہیں وہ بھی عجیب طرح پڑھتی ہیں۔ کھڑے ہوتے ہی رکوع میں چلی جاتی ہیں اور کھڑے ہوئے بغیر ہی بیٹھ جاتی ہیں۔ ابھی بیٹھنے بھی نہیں پاتیں کہ سجدہ میں چلی جاتی ہیں اور اس جلدی سے ایسا کرتی ہیں کہ سمجھ میں نہیں آتا کیا پڑھتی ہوں گی۔ ایسی عورتوں کو یاد رکھنا چاہئے کہ وہ نہی کے طور پر کھڑی نہیں ہوتیں بلکہ نماز پڑھنے کے لئے کھڑی ہوتی ہیں اور نماز یہ ہے کہ اللہ کے حضور عاجزی اور فروتنی دکھائی جائے اور خدا سے اپنی حاجتوں کے پورا ہونے کی درخواست کی جائے۔ کیا جس سے کچھ مانگنا ہو اس کے سامنے اسی طرح کیا جاتا ہے نہیں بلکہ اس کا تو بڑا ادب اور لحاظ کیا جاتا ہے۔ اس کی منت خوشامد کی جاتی ہے۔ پھر کیا وجہ ہے کہ وہ خدا کے حضور کھڑی تو کچھ مانگنے کے لئے ہوتی ہیں لیکن ان کی حرکات میں ادب نہیں ہوتا۔ ان کے دل میں خوف نہیں پیدا ہو تا رہ عاجزی اور فروتنی نہیں دکھاتیں بلکہ یہ ظاہر کرتی ہیں کہ گویا اللہ تعالیٰ ان کا محتاج ہے۔ حالانکہ اللہ کسی کا محتاج نہیں۔ ہم سب اس کے محتاج ہیں۔ اس لئے ہمیں خاص طور پر ادب کرنا چاہئے ۔ اس کے خوف کو دل میں جگہ دینی چاہئے اور نہایت عاجزی اور خاکساری سے اس کے آگے عرض کرنی چاہئے۔ کئی ایک مرد ایسے ہیں جو ایسا نہیں کرتے لیکن عورتیں تو کثرت سے ایسی ہیں جو نماز کو ایک مصیبت سمجھتی اور جتنی جلدی ہو سکے گلے سے اتارنا چاہتی ہیں۔ حالانکہ نماز ا نہیں کے فائدے کے لئے ہے نہ کہ خدا تعالیٰ کو کوئی فائدہ ہے۔ پس نماز نہایت عمدگی کے ساتھ ادا کرنی چاہئے۔ زکوة دینا اس کے علاوہ دوسرا حکم زکوٰۃ کا ہے کہ اگر کسی کے پاس ۵۲ تولے چاندی یا ۴۰ روپے سال بھر تک جمع رہیں تو ان پر ایک روپیہ زکوۃ دے جو مسکینوں، یتیموں اور غریبوں کے لئے دینا ضروری ہے اور جہاں نماز کے ذریعہ خدا کا حق ادا کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ وہاں زکوۃ کے حکم سے بندوں کا حق ادا کرنے کی تاکید کی ہے۔ خدا تعالیٰ خود بھی براہ