انوارالعلوم (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page vii of 709

انوارالعلوم (جلد 4) — Page vii

انوار العلوم جلد ۴ تعارف کتب بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ تعارف کتب یہ انوار العلوم " کی چوتھی تھی جلد ہے۔ جو سیدنا ر سید نا حضرت مصلح موعود خلیفة المسیح الثانی کی درج ذیل ۱۷- کتب پر مشتمل ہے۔ یہ کتب اگست ۱۹۱۷ء تا فروری ۱۹۲۰ء کے دور کی ہیں۔ -1- اطاعت اور احسان شناسی حضرت امام جماعت احمد یہ ثانی نے ۴۔ اگست ۱۹۱۷ء کو جنگ عظیم اول کی تیسری سالگرہ کے موقع پر ایک جلسہ منعقدہ قادیان میں تقریر فرمائی جس میں حضور نے اس امر پر روشنی ڈالی کہ اسلامی تعلیم کی صداقت دیگر مذاہب کے مقابلہ میں ہر پہلو سے کامل اور مکمل ہے۔ کوئی معاملہ ایسا نہیں جس کے متعلق اسلامی شریعت نے راہنمائی نہ کی ہو۔ مثلاً سیاست ہی کو لے لو۔ دیگر مذاہب نے سیاست کے متعلق اپنے پیروکاروں کو جو تعلیم دی ہے اس پر عمل کرنے کے نتیجہ میں امن و صلح کی بجائے فساد پیدا ہوتا ہے اور اس کا ثبوت مختلف مذاہب کے ماننے والوں کی آپس کی جنگیں ہیں لیکن اسلام نے حکومت اور رعایا کے درمیان تعلقات کو نہایت عمدہ بنانے کا بہترین طریق بتایا ہے کہ حاکم خواہ کسی قوم یا کسی مذہب کا ہو اس سے بد دیانتی بد عہدی اور بغاوت نہیں کرنی چاہئے اور اس کے معاہدات کو توڑنا نہیں چاہئے۔ حضور نے قرآنی آیت أَطِيعُوا اللهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنْكُمْ کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ یہاں خدا تعالیٰ نے اولوالامر کی اطاعت کرنے کی دو شرطیں بتائی ہیں ایک یہ کہ اللہ کی اطاعت کھلے بندوں کر سکو دوسرے یہ کہ اس کے رسول کے احکام کے ماننے اور ان پر عمل کرنے میں کوئی روک نہ پاؤ - حضور نے فرمایا کہ اس تعلیم پر عمل کرنے سے سب 4