انوارالعلوم (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 638 of 709

انوارالعلوم (جلد 4) — Page 638

انوار العلوم جلد ۴ ۶۳۸ واقعات خلافت علوی میرے خیال میں حضرت علی کی رائے موقع اور محل کے لحاظ سے احتیاط اور بچاؤ کا پہلو لئے ہوئے ہونے کی وجہ سے اعلیٰ تھی۔ مگر شریعت کی پیروی کے لحاظ سے حضرت عائشہ اور دوسرے صحابیوں کی اعلیٰ تھی۔ روز حضرت طلحہ اور زبیر نے مکہ پہنچ کر حضرت عثمان کا انتقام لینے کے لئے لوگوں کو جوش دلایا۔ اور حضرت عائشہ اور ان کی یہی رائے ہوئی کہ خواہ کچھ ہو ابھی قاتلوں کو سزا دینی چاہئے۔ اس پر اعلان کر دیا گیا کہ ہم قاتلوں کو قتل کرنے کے لئے جاتے ہیں۔ اور لوگ بھی ان کے ساتھ ہو گئے اور کوئی سات آٹھ سو کے قریب تعداد ہو گئی۔ اور انہوں نے قاتلوں کے ساتھ لڑنا دین کی بہت اعلیٰ خدمت سمجھی۔ اس وقت سوال پیدا ہوا کہ ہماری تعداد تھوڑی ہے۔ اگر ہم جائیں گے تو کوئی نتیجہ نہ ہو گا وہ غالب آجائیں گے۔ اس لئے چاہئے کہ بصرہ چلیں جو فوج کی چھاؤنی تھی۔ یہ گروہ جب بصرہ کی طرف چلا اور حضرت علی کو خبر ہوئی تو وہ بھی بصرہ کی طرف روانہ ہو گئے۔ جب بصرہ کے پاس پہنچے اور ایک صحابی قعقاع کو حضرت عائشہ کے پاس بھیجا کہ جاکر دریافت کرد کس غرض کے لئے آئے ہیں۔ انہوں نے کہا اصلاح کے لئے۔ کہا گیا پھر لڑائی کیوں کریں۔ خود مل کر فیصلہ کر لیتے ہیں۔ اس پر طرفین راضی ہو گئے اور حضرت علی نے اعلان کر دیا کہ حضرت عثمان کے قتل میں جو لوگ شریک تھے وہ میرے لشکر میں نہ رہیں۔ اس پر امید ہو گئی کہ صلح ہو جائے گی مگر مفسد کہاں یہ پسند کر سکتے تھے کہ صلح ہو۔ انہیں ڈر تھا کہ اگر صلح ہو گئی تو ہم مارے جائیں گے ۔ انہوں نے رات کو آپس میں مشورہ کیا اور آخر یہ تجویز قرار پائی کہ رات کو شب خون ماریں۔ اور خود ہی چھا پہ ڈالیں۔ انہوں نے ایسا ہی کیا۔ طرفین کے لوگ بڑے اطمینان سے رات کو سوئے ہوئے تھے کہ صبح صلح ہو جائے گی۔ لیکن رات کو جب شور و شر سے اٹھے تو دیکھا کہ تلوار چل رہی ہے۔ ادھر مفسدوں نے یہ چالا کی کی کہ اگر ہماری اس سازش کا پتہ لگ گیا تو ہم قتل کئے جائیں گے اس کے لئے انہوں نے یہ کیا کہ ایک آدمی حضرت علی کے پاس کھڑا کر دیا اور اسے کہہ دیا۔ جس وقت تم شور کی آواز سنو ۔ اس وقت انہیں کہہ دو کہ ہم پر حملہ کیا گیا۔ ادھر انہوں نے حملہ کیا۔ اور ادھر اس نے حضرت علی کو یہ اطلاع دی۔ اور ان کی طرف سے کچھ آدمی ان پر جاپڑے ۔ دونوں طرفوں کو اس بات کا ایک دوسرے پر افسوس تھا کہ جب صلح کی تجویز کی گئی تھی تو پھر دھوکا سے کیوں حملہ کیا گیا۔ حالانکہ یہ دراصل مفسدوں کی شرارت تھی۔ ایسی صورت میں بھی حضرت علی نے احتیاط سے