انوارالعلوم (جلد 4) — Page 636
انوار العلوم جلد ۴ ۶۳۶ واقعات خلافت علوی حضرت عثمان کے ساتھ ہی کچھ غلام بھی شہید ہوئے تھے ان کی لاشوں کو دفن کرنے سے روک دیا اور کتوں کے آگے ڈال دیا۔ حضرت عثمان اور غلاموں کے ساتھ یہ سلوک کرنے کے بعد مفدوں نے مدینہ کے لوگوں کو جن کے ساتھ ان کی کوئی مخالفت نہ تھی چھٹی دے دی اور صحابہ نے وہاں سے بھاگنا شروع کر دیا ۔ پانچ دن اسی طرح گزرے کہ مدینہ کا کوئی حاکم نہ تھا۔ مفسد اس کوشش میں لگے ہوئے تھے کہ کسی کو خود خلیفہ بنا ئیں اور جس طرح چاہیں اس سے کرائیں۔ لیکن صحابہ میں سے کسی نے یہ برداشت نہ کیا کہ وہ لوگ جنہوں نے حضرت عثمان کو قتل کیا ہے ان کا خلیفہ بنے۔ مفسد حضرت علی ، طلحہ اور زبیر کے پاس باری باری گئے اور انہیں خلیفہ بننے کے لئے کہا مگر انہوں نے انکار کر دیا۔ جب انہوں نے انکار کر دیا اور مسلمان ان کی موجودگی میں اور کسی کو خلیفہ نہیں مان سکتے تھے تو مفسدوں نے اس کے متعلق بھی جبر سے کام لینا شروع کر دیا۔ کیونکہ انہوں نے خیال کیا کہ اگر کوئی خلیفہ نہ بنا تو تمام عالم اسلامی میں ہمارے خلاف ایک طوفان برپا ہو جائے گا۔ انہوں نے اعلان کر دیا کہ اگر دو دن کے اندر اندر کوئی خلیفہ بنا لیا جاوے تو بہتر ورنہ ہم علی ، طلحہ اور زبیر اور سب بڑے بڑے لوگوں کو قتل کر دیں گے۔ اس پر مدینہ والوں کو خطرہ پیدا ہوا کہ وہ لوگ جنہوں نے حضرت عثمان کو قتل کر دیا وہ ہم سے اور ہمارے بچوں اور عورتوں سے کیا کچھ نہ کریں گے۔ وہ حضرت علیؓ کے پاس گئے اور انہیں خلیفہ بننے کے لئے کہا مگر انہوں نے انکار کر دیا اور کہا کہ اگر میں خلیفہ ہوا تو تمام لوگ یہیں کہیں گے میں نے عثمان کو قتل کرایا ہے اور یہ بوجھ مجھ سے نہیں اٹھ سکتا۔ یہی بات حضرت طلحہ اور حضرت زبیر نے کی۔ اور صحابہ نے بھی جن کو خلیفہ بننے کے لئے کہا گیا انکار کر دیا۔ آخر سب لوگ پھر علی کے پاس گئے اور کہا جس طرح بھی ہو آپ یہ بوجھ اٹھائیں۔ آخر کار انہوں نے کہا میں اس شرط پر یہ بوجھ اٹھاتا ہوں کہ سب لوگ مسجد میں جمع ہوں اور مجھے قبول کریں۔ چنانچہ لوگ جمع ہوئے اور انہوں نے قبول کیا مگر بعض نے اس بناء پر انکار کر دیا کہ جب تک حضرت عثمان کے قاتلوں کو سزا نہ دی جائے اس وقت تک ہم کسی کو خلیفہ نہیں مانیں گے اور بعض نے کہا جب تک باہر کے لوگوں کی رائے نہ معلوم ہو جائے کوئی خلیفہ نہیں ہونا چاہئے۔ مگر ایسے لوگوں کی تعداد بہت قلیل تھی۔ اس طرح حضرت علیؓ نے خلیفہ بننا تو منظور کر لیا۔ مگروہی نتیجہ ہوا جس کا انہیں خطرہ تھا تمام عالم اسلامی نے یہ کہنا شروع کر دیا کہ علی نے عثمان کو قتل کرایا ہے۔ حضرت علی کی اگر اور تمام خوبیوں کو نظر انداز کر دیا جائے تو میرے نزدیک ایسی خطرناک