انوارالعلوم (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 634 of 709

انوارالعلوم (جلد 4) — Page 634

انوار العلوم جلد ۴ ۶۳۴ واقعات خلافت علوی لوگوں کے دل میں کیا درجہ ہے۔ کچھ عرصہ ہوا جب گزشتہ سال اس سوسائٹی میں حضرت صاحبزادہ صاحب کا لیکچر ہوا تو میں اس وقت لائل پور تھا۔ اور اخبارات کے ذریعہ مجھے معلوم ہوا تھا کہ حضرت نے اس مضمون پر جو آج پیش فرمائیں گے اس کے اول حصہ پر تقریر کی جو نہایت درجہ مقبول ہوئی۔ آج جیسا کہ آپ لوگوں نے اشتہار سے معلوم کیا ہو گا اس مضمون کا دوسرا حصہ یعنی اسلام میں اختلاف کا آغاز کس طرح اور کب ہوا تاریخی پہلو سے بیان فرمائیں گے۔ سے مجھے یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ آپ صاحبان حضرت صاحبزادہ صاحب کا لیکچر توجہ اور غور سنیں۔ آپ ضرور سنیں گے میں صرف یہ درخواست کرنا چاہتا ہوں کہ اس مجمع کثیر میں ابھی اور بہت سے لوگ آئیں گے۔ ان کے متعلق منتظم صاحبان ایسا انتظام کر دیں کہ انہیں ایسی جگہ آرام سے بٹھا دیا جائے جہاں گنجائش ہو۔ اور ان کی وجہ سے مجمع میں کسی قسم کا خلل آپ صاحبان جم کر بیٹھے رہیں تاکہ ہم لیکچر سے سے وہ لطف اٹھا اٹھا۔ سکیں جس کے ہم نہ واقع ہو۔ اور آر در مشتاق ہیں۔ اس کے بعد میں حضرت صاحبزادہ صاحب سے درخواست کرتا ہوں کہ لیکچر شروع فرمائیں۔ حضرت خلیفة المسیح الثانی نے کلمات تشہد اور سورہ فاتحہ کی حضرت خلیفہ المسی کی تقریر تلاوت کر کے جو عظیم الشان اور نہایت مؤثر لیکچر دیا اس کا کسی قدر خلاصہ درج ذیل کیا جاتا ہے۔ حضور نے گذشتہ سال کے لیکچر کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ اس وقت تنگی وقت کی وجہ سے حضرت علی کے زمانہ کے واقعات کو نہایت مختصر طور پر بیان کرنا پڑا تھا۔ آج میں ان کو کسی قدر تفصیل سے بیان کروں گا۔ اس کے بعد حضور نے مسلمانوں کے اختلاف کی وجوہات بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ ایک وجہ تو یہ تھی کہ مسلمانوں کو روحانی اور جسمانی فتوحات جلد جلد اور اس کثرت سے حاصل ہوئیں کہ وہ دونوں پہلوؤں سے ان کا پورا پورا انتظام نہ کر سکے ۔ صحابہ کی تعداد یدُ خُلُونَ فِي دِيْنِ اللَّهِ أَفْوَاجًا کے مقابلہ میں بہت کم تھی۔ اس وجہ سے مسلمانوں کے ایک حصہ میں کمزوری رہ گئی۔ دوسرے یہ کہ پہلے تو اسلام کے دشمنوں کا خیال تھا کہ مسلمان جلدی مٹ