انوارالعلوم (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 624 of 709

انوارالعلوم (جلد 4) — Page 624

انوار العلوم جلد ۴ ۶۳ تقدیر الهی شروع ہوا تھا۔ اور اس مقام پر بندہ نہایت ادب کے ساتھ خدا تعالیٰ کے بنائے ہوئے سامانوں کو کام میں لانا شروع کرتا ہے کیونکہ ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے سمجھتا ہے اور تمام ضروریات کے موقعوں پر خوب اسباب سے کام لیتا ہے۔ آج کل نادان انسان اعتراض کرتے ہیں کہ مرزا صاحب تدبیریں کیا کرتے تھے۔ حالانکہ جو انسان عبودیت کے مقام پر ہو یا اس مقام سے اوپر گزر چکا ہو اس کے لئے بعض دفعہ یہ واجب ہوتا ہے کہ وہ تدبیر سے کام لے۔ اگر وہ ایسا نہ کرے تو اس کو گناہ ہو۔ عبودیت کے مقام مقام پر پہنچا ہوا انسان سب کام اسب کام کرتا ہے تا ہے اور ہر بات کے لئے جو اسباب مقرر ہیں ان سے کام لیتا ہے اور بعض دفعہ تو اس پر ایسی حالت آتی ہے کہ سوائے ان دعاؤں کے جن کا مانگنا اس کے لئے فرض کر دیا گیا ہے وہ اپنی طرف سے اپنے نفس کے لئے دعا بھی نہیں کرتا۔ کیونکہ وہ سمجھتا ہے کہ دعا کرنا گویا تقدیر خاص کو بلانا ہے اور ایک غلام کا کیا حق ہے کہ وہ اپنے آقا کو اس طرح بلائے ۔ یہی وہ حالت تھی جو حضرت ابراہیم کو اس وقت حاصل تھی جب کہ ان کو آگ میں ڈالنے لگے تھے ۔ اس وقت جبرائیل ان کے پاس آئے اور آکر کہا کہ اگر خدا سے کچھ مدد مانگنا ہے تو مجھے کہو۔ حضرت ابراہیم نے کہا تم کو کہنے کی کیا ضرورت ہے خدا تعالیٰ خود جانتا ہے۔ انہوں نے کہا پھر خدا سے کہو۔ حضرت ابراہیم نے کہا وہ خود دیکھ رہا ہے میں اسے کیا کہوں؟ تو اس درجہ پر پہنچ کر انسان کی یہ حالت ہو جاتی ہے کہ عبودیت میں محو ہو کر اللہ تعالیٰ کے رعب اور شان کو دیکھ کر اس کی طرف آنکھ بھی نہیں اٹھا سکتا کیونکہ اس وقت اس کی آنکھیں تمام طرف سے پھری ہوئی ہوتی ہیں اور اس کی نظر صرف عبودیت پر ہی ہوتی ہے۔ ہے۔ بندہ اور ترقی کرتا ہے اور اپنی عبودیت کا جب مطالعہ کر چکتا ۔ درجہ پنجم پھر اس کے آگے بندہ اور تر اور اپنے اوپر تقدیر عام جاری کرتے کرتے وہ اپنے نفس کی کمزوریوں کو خوب محسوس کر لیتا ہے تو وہ کہہ اٹھتا ہے کہ خدا نے آخر تقدیر خاص کیوں جاری کی؟ اس لئے کہ میں اس کا عبد ہوں اور مجھ میں کمزوریاں ہیں۔ پس اس سے کام نہ لینا بھی ناشکری ہے اور اس پر وہ خاص تقدیر سے کام لینا شروع کرتا ہے۔ یعنی دعا سے کام لیتا ہے اور یہ مقام مقام دعا کہلاتا ہے۔ اس مقام پر پہنچ کر وہ خدا سے دعا مانگتا ہے۔ جب کوئی روک اس کے سامنے آتی ہے تو کہتا ہے خدا تعالیٰ نے تقدیر خاص اس لئے رکھی ہے کہ میں ایسے موقع پر اس سے کام لوں۔ اس کی مثال ایسی ہی ہے جیسے کہ ایک شخص ثمردار درخت کے نیچے بیٹھا ہو اور ایک لمبا بانس