انوارالعلوم (جلد 4) — Page 618
انوار العلوم جلد ۴ ٩١٨ تقدیر الهی کہ ملک مبارک علی صاحب تاجر لاہور ہر روز شام کو اس مقام پر آجاتے جہاں حضرت صاحب ٹھرے ہوئے تھے اور جب حضرت صاحب باہر میر کو جاتے تو وہ اپنی بگھی میں بیٹھ کر ساتھ ہو جاتے تھے۔ مجھے میر کے لئے حضرت صاحب نے ایک گھوڑی منگوا دی ہوئی تھی میں بھی اس پر سوار ہو کر جایا کرتا تھا اور سواری کی سڑک پر گاڑی کے ساتھ ساتھ گھوڑی دوڑاتا چلا جاتا تھا اور باتیں بھی کرتا جاتا تھا۔ لیکن جس رات حضرت صاحب کی بیماری میں ترقی ہو کر دوسرے دن آر آپ نے فوت فوت ہونا تھا میری طبیعت پر کچھ بوجھ سا محسوس ہوتا تھا۔ اس لئے میں گھوڑی پر سوار نہ ہوا۔ ملک صاحب نے کہا میری گاڑی میں ہی آجائیں۔ چنانچہ میں ان کے ساتھ بیٹھ گیا لیکن بیٹھتے ہی میرا دل افسردگی کے ایک گہرے گڑھے میں گر گیا۔ اور یہ مصرع میری زبان پر جاری ہو گیا کہ راضی ہیں ہم اس میں جس میں تری رضا ہو ملک صاحب نے مجھے اپنی باتیں سنائیں۔ میں کسی ایک آدھ بات کا جواب دے دیتا تو پھر اس خیال میں مشغول ہو جاتا۔ رات کو ہی حضرت صاحب کی بیماری یک دم ترقی کر گئی اور صبح آپ فوت ہو گئے۔ یہ بھی ایک تقدیر خاص تھی جس نے مجھے وقت سے پہلے اس ناقابل برداشت صدمہ کے برداشت کرنے کے لئے تیار کر دیا۔ اسی طرح صوفیاء کے متعلق لکھا ہے کہ جب ان کو بعض ابتلاء آئے اور انہیں پتہ لگ گیا کہ یہ ابتلاء خالص آزمائش کے لئے ہیں تو گو لوگوں نے ازالہ کے لئے کوشش کرنی چاہی انہوں نے انکار کر دیا اور اس تکلیف کی حالت میں ہی لطف محسوس کیا۔ اب میں یہ بتاتا ہوں کہ ابتلاء آتے کیوں ہیں؟ اس کے متعلق یاد رکھنا چاہئے کہ اول تو عموماً اس لئے آتے ہیں کہ انسان کا ایمان مضبوط ہو ۔ لیکن اس لئے نہیں کہ خدا تعالیٰ کو اس کا علم نہیں ہوتا بلکہ اس لئے کہ خود انسان کو معلوم نہیں ہو تاکہ میرے ایمان کی کیا حالت ہے۔ چنانچہ ایک حکایت بیان کی جاتی ہے کہ ایک عورت کی لڑکی سخت بیمار تھی۔ وہ روز دعا کرتی تھی کہ اس کی بیماری مجھے لگ جائے اور میں مر جاؤں۔ ایک رات کو گائے کا مونہہ ایک تنگ بر تن میں پھنس گیا اور وہ اسے برتن سے نکال نہ سکی۔ اور گھبرا کر اس نے ادھر ادھر دوڑنا شروع کیا۔ اس عورت کی آنکھ کھل گئی اور ایک عجیب قسم کی شکل اپنے سامنے دیکھ کر اس نے سمجھا کہ ملک الموت جان نکالنے کے لئے آیا ہے۔ اس عورت کا نام مہتی تھا بے اختیار ہو کر