انوارالعلوم (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 36 of 709

انوارالعلوم (جلد 4) — Page 36

انوار العلوم جلد ۴ کرتی۔ ۳۶ عورتوں کا دین سے واقف ہونا ضروری ہے اس قسم کے اور کئی واقعات ہیں یہ تو میں نے آنحضرت کے وقت کا واقعہ سنایا ہے۔ ایک آپ کی وفات کے بعد کا سناتا ہوں۔ ہندہ ایک عورت تھی جو آنحضرت کی ابتداء میں اس قدر دشمن ایک اور مثال تھی کہ جب آپ کے چچا حضرت حمزہ شہید ہوئے تو اس نے ان کا کلیجہ نکال کر دانتوں سے چبایا تاکہ آنحضرت ﷺ کو تکلیف پہنچے لیکن جب آپ پر ایمان لائی تو دین کی بڑی خدمت کرتی رہی اور کئی جنگوں میں شامل ہوئی۔ چنانچہ حضرت عمرؓ کے وقت جب مسلمانوں کا عیسائیوں کے ایک کثیر التعداد لشکر سے مقابلہ ہوا جس میں ایک مسلمان کے مقابلہ میں چودہ چودہ عیسائی تھے تو مسلمانوں کے قدم اکھڑ گئے۔ اس وقت ہندہ نے اپنی ساتھی عورتوں کو کہا یہ مرد ہو کر دشمن کے مقابلہ سے ہٹ رہے ہیں۔ آؤ ہم عورتیں ہو کر انہیں سبق دیں۔ یہ کہہ کر انہوں نے خیموں کی چوٹیں نکال لیں اور صف باندھ کر کھڑی ہو گئیں اور مسلمانوں کے گھوڑوں کو سوئے مار مار کر واپس لوٹا دیا ۔ اس وقت ہندہ نے اپنے خاوند کو کہا۔ کیا تمہیں شرم نہیں آتی کہ کفر کے زمانہ میں تو اسلام کا بڑے زور شور سے مقابلہ کرتا رہا ہے اور اب پیٹھ دکھاتا ہے۔ ر فتوح الشام عربی جلد ا صفحه ۱۳۷) تو عورتوں نے ایسے ایسے بہادری کے کام کئے ہیں۔ پھر رسول کریم ﷺ کی عادت تھی اور احادیث عورتوں کا اہم امور میں مشورہ دینا سے ثابت ہے کہ آپ بڑے بڑے اہم امور میں اپنی بیویوں سے مشورہ لیتے تھے ۔ چنانچہ جب آپ حج کو گئے ہیں اور کفار نے مکہ جانے سے روک دیا ہے تو آپ نے مسلمانوں کو فرمایا کہ احرام کھول دیں لیکن انہوں نے نہ کھولے۔ تو آپ بیوی کے پاس گئے اور جاکر سب بات بتائی۔ ان انہوں نے کہا آپ خاموش ہو کر جائیں اور قربانی کر کے اپنا احرام کھول دیں یہ دیکھ کر سب ایسا ہی کریں گے۔ آپ نے ایسا ہی کیا اور سب مسلمانوں نے احرام کھول دیے ۔ (بخاری کتاب الشروط ۔ باب في الجهاد و المصالحة مع اهل الحرب و كتابة الشروط تو ہمیشہ عور تیں بڑی بڑی خدمتیں کرتی اور امور مہمہ میں مشورے دیتی رہی ہیں۔ پس آج کل کی عورتوں کا یہ غلط خیال ہے کہ ہم کچھ نہیں کر سکتیں حالانکہ وہ بہت کچھ کر سکتی ہیں اور جس طرح مردوں کے لئے دوسروں کو دین سکھانا ضروری ہے اس طرح