انوارالعلوم (جلد 4) — Page 601
انوار العلوم جلد ۳ ・ト تقدیر الهی وعظ اور نصیحت ہے مگر اسی شخص کے لئے جو چاہے اپنے معاملات کو درست کرے اور حق پر قائم ہو ۔ آگے فرماتا ہے ۔ وَمَا تَشَاءُ ونَ إِلَّا أَنْ يَشَاءَ اللَّهُ رَبُّ الْعَلَمِينَ ، یعنی یہ تمہاری کوشش استقامت کی بھی تبھی انعام کا وارث ٹھر سکتی ہے جب کہ تمہاری مرضی خدا تعالٰی کی مرضی کے مطابق ہو جائے یعنی تمہارے اعمال شریعت کے مطابق ہوں اور تمہارے عقائد بھی شریعت کے مطابق ہوں۔ جن باتوں پر خدا تعالیٰ نے فرمایا ہے ایمان لاؤ اور حسن اعمال یعنی نماز، روزہ، زکوۃ، حج وغیرہ کا حکم دیا ہے ان کو بجالاؤ۔ ان کو بجالاؤ ۔ جب اس طرح کرو گے اس وقت تم اس کلام کے نیک اثرات کو محسوس کرو گے ورنہ نہیں۔ اور یہ ایسی ہی بات ہے جیسے کسی کو کہا جائے کہ ہم تم سے تب خوش ہوں گے جب تم ہماری منشاء کے ماتحت کام کرو۔ پس اس آیت سے یہ بات ثابت نہیں ہوتی کہ تمام انسانی اعمال اللہ تعالی کراتا ہے اور انسان کا اس سے کچھ واسطہ نہیں ہوتا۔ باقی رہی یہ آیت کہ إِنَّ اللَّهَ يُضِلُّ مَنْ يَشَاءُ (الرعد: ۲۸) اس کے متعلق اس وقت پوچھنے کی کوئی ضرورت نہ تھی۔ ہماری جماعت میں اس کے متعلق بہت کچھ لکھا گیا ہے۔ اس کے متعلق اللہ تعالیٰ نے خود کھول کر بیان کر دیا ہے کہ خدا اس کو گمراہ کرتا ہے جو خود ایسا ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ كَذَلِكَ يُضِلُّ اللَّهُ مَنْ هُوَ مُسْرِفُ مُرْتَابُ (المؤمن: ۳۵) یعنی اسی طرح اللہ تعالی گمراہ کرتا ہے اسے جو مسرف اور شک کرنے والا ہوتا ہے۔ اسی طرح فرماتا ہے۔ وَمَا يُضِلُّ بِهِ إِلَّا الْفَسِقِينَ ه (البقرة : ۲۷) اور نہیں گمراہ کرتا اللہ تعالیٰ اس کے ذریعہ مگر فاسقوں کو اور اسی طرح فرماتا ہے۔ وَمَا كَانَ اللَّهُ لِيُضِلَّ قَوْمًا بَعْدَ إِذْ هَدَهُمْ (التوبة : ۱۱۵) یعنی یہ کیونکر ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ خود ہی ہدایت بھیجے اور پھر خود ہی بعض آدمیوں کو گمراہ کر دے۔ پس اللہ تعالٰی اس کو گمراہ کرتا ہے جو خود گمراہ ہوتا ہے۔ اور یہ صحیح بات ہے کہ جو آنکھیں بند رکھے وہ ایک نہ ایک دن اندھا ہو جائے گا۔ اسی طرح جو روحانی آنکھوں سے کام نہ لے وہ نہ بھی روحانیت سے بے بہرہ ہو جاتا ہے۔ اور چونکہ یہ قانون خدا تعالٰی نے مقرر کیا ہوا ہے اس