انوارالعلوم (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 592 of 709

انوارالعلوم (جلد 4) — Page 592

انوار العلوم جلد ۴ ۵۹۲ تقدیر الهی صحبت ہوا۔ آنکھ کھلنے پر معلوم ہوا کہ دل سے اس کی محبت بالکل نکل گئی اور وہ حالت جاتی رہی۔ اس اظہار واقعہ سے سید عبد القادر جیلانی رحمتہ اللہ علیہ کو معلوم ہوا کہ کس طرح وہ تقدیر جو اس شخص کے اپنے ہی اعمال کے نتیجہ میں ظاہر ہونے والی تھی اور اس کے لئے ایسے حالات جمع ہو گئے تھے کہ وہ ٹل نہیں سکتی تھی خدا تعالیٰ نے ایک اور صورت میں پوری کر کے اس شخص کو گناہ سے بچا دیا ۔ اور سید عبد القادر جیلانی رحمتہ اللہ علیہ کی دعا کو اس کے حق میں قبول کر کے اپنی خاص قدرت کے ذریعہ سے اس شخص کو اس کے برے اعمال کے بد نتائج سے بچالیا۔ اب سوال ہوتا ہے کہ تقدیر کیا تقدیر کے ملنے سے کوئی نقص تو واقع نہیں ہوتا؟ کسے ملنے سے خدا کی شان سے میں فرق نہیں آتا؟ اس کا جواب یہ ہے کہ نہیں آتا۔ کیونکہ تقدیر کے ٹلانے میں کئی ایک فوائد ہیں۔ اول تقدیر کے بتلانے اور پھر اس کو ٹلانے سے اللہ تعالیٰ کی شفقت کا اظہار ہوتا ہے۔ کیونکہ جب وہ ایک آنے والی مصیبت کا اظہار بندہ پر کر دیتا ہے تو اس سے بندہ ہوشیار ہو جاتا ہے اور اپنے بچاؤ کے سامان کر لیتا ہے اور اس طرح اللہ تعالیٰ کے احسان سے اس مصیبت سے بچ جاتا ہے۔ پس تقدیر کا قبل از وقت بتانا بھی اللہ تعالٰی کی شفقت پر دلالت کرتا ہے اور پھر اس کا ملانا بھی اس کے رحم پر دلالت کرتا ہے اور بجائے نقص کے اس میں فائدہ ہے۔ تقدیر خاص کے ملانے میں کہ جو تقدیر عام کے نتیجہ میں نازل نہیں ہوتی بلکہ روحانی حالت کے تغیر پر اس کا نزول ہوتا ہے ایک اور فائدہ بھی ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کا اظہار ہے۔ اگر غور کیا جائے تو تقدیر خاص کو ٹلانے کے بغیر اللہ تعالیٰ کی کامل قدرت کا اظہار ہی نہیں ہوتا۔ اگر کوئی شخص انبیاء کی مخالفت کرے اور دین حق کے پھیلنے میں روک ہو اور اس کو سزا دینا ضروری ہو اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ اطلاع اپنے مامور کو مل جائے کہ وہ شخص ہلاک ہو جائے گا اور وہ شخص با وجود تو بہ کے ہلاک ہو جائے تو اس سے خدا تعالیٰ کا قادر ہونا مخفی ہو جائے گا اور زیادہ سے زیادہ یہ ثابت ہو گا کہ خدا تعالیٰ علیم ہے۔ لیکن علیم ہونا کوئی چیز نہیں جب تک وہ قادر بھی نہ ہو۔ اس کا قادر ہونا ہی انسان کی محبت کو اپنی طرف کھینچ سکتا ہے۔ پس ایک خبر کے بتائے جانے پر پھر اس کا نہ ٹلنا صرف علم غیب پر دلالت کرے گا قدرت پر نہیں۔ بلکہ لوگوں کو شبہ پڑ سکے گا کہ جو نبی" خبر بتا رہا ہے شاید اسے کوئی ایسا ذریعہ معلوم ہو گیا ہے جس کے